تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 250
۲۵۰ جماعت کی نمائندگی کر کے آجاتے تھے۔اگر ہم انہیں کہتے کہ وائسرائے سے ملاقات کے لئے جاؤ۔تو وہ فوراً اس کی ملاقات کے لئے تیار ہو جاتے تھے۔اور کامیاب طور پر اسے مل کر آتے تھے۔کونسل کے نمبروں کے پاس انہیں بھیجا جاتا تو وہ بغیر کسی جھجک کے چلے جاتے۔اور نہایت کامیابی کے ساتھ سلسلہ کے کام بجالاتے۔ان کے دل میں کبھی بھی یہ خیال پیدا نہیں ہوا تھا کہ وہ لوگ بڑے درجہ کے ہیں اور میں کمزور انسان ہوں۔اس وقت میں کالج کے پروفیسروں کے متعلق بھی یہ خیال نہیں کرتا کہ باوجودیکہ اس وقت ملک کی حکومت اپنی ہے۔انہیں اگر گورنر کے پاس بھی بھیجا جائے تو وہ کامیابی کے ساتھ کوئی کام کر سکیں لیکن وقد صاحب کے اندر یہ یقین پایا جاتا تھا کہ گو ہمیں کمزور انسان ہوں لیکن یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے پھر میں اسے کیوں نہیں کر سکتا۔اور نیکی سمجھتا ہوں ہر شخص کے اندر یہ مادہ پایا جانا ضروری ہے۔اگر کسی انسان میں یہ مادہ پیدا ہو جائے تو اس کی زبان میں برکت پیدا ہو جاتی ہے۔اور لوگ اس کی بات سننے لگ جاتے ہیں۔چودھری فتح محمد صاحب ، میاں بشیر احمد صاحب درد صاحب اور سید ولی اللہ شاہ صاحب سب اکٹھے آئے تھے اور ان میں سے ہر ایک کو خدا تعالیٰ نے چالیس چالیس سال تک سلسلہ کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔اگر خدا تعالیٰ چاہے تو ان میں سے زندہ افراد کو لمبی زندگی عطا کر کے اور زیادہ خدمت کی توفیق بھی دے سکتا ہے جضرت مسیح علیہ السلام کو ہی لے اور ہمارے نزدیک وہ ۱۲۰ سال تک زندہ رہے۔پس گو ان کی عمریں زیادہ ہو چکی ہیں۔کوئی ۶۲ سال کا ہے کوئی ۶۴ سال کا ہے اور کوئی ۶۵ سال کا ہے۔اور میری عمر تو اس وقت ۶۷ سال کی ہو چکی ہے۔لیکن خدا تعالے میں یہ طاقت ہے کہ وہ ہم میں سے بعض کو صحت والی عمر دے کہ ان سے اس وقت تک کام لے لے جب تک جماعت کے نو جوانوں کے اندر بیداری نہ پیدا ہو جائے۔اور وہ سمجھنے نہ لگ جائیں کہ ہمیں سلسلہ کا بوجھ اُٹھانے کے لئے آگے آنا چاہیے۔پس میں نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ وہ دین کی خدمت کے لئے آگے آئیں۔اور صرف آگے ہی نہ آئیں بلکہ اس ارادہ سے آگے آئیں کہ انہوں نے کام کرنا ہے ؟" له الفضل ۱۸ر دسمبر ۱۹۵۵ء تا ۲