تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 217 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 217

۴۱۷ خواجہ شفیع صاحب کو معلوم ہوگیا کہ ماسٹر آسان صاحب تو احمدی ہیں۔لیکن جادو چل چکا تھا۔اعزاز و اکرام میں فرق نہ آیا۔ایک دن ماسٹر صاحب مجلس سے کچھ وقت قبل خواجہ شفیع صاحب کے پاس چلے گئے۔وہاں باتوں ہی باتوں میں والد صاحب سے احمدیت کے بارے میں ذکرہ آگیا۔کہ آپ احمدی کیسے ہو گئے۔بس پھر کیا تھا۔تبلیغی گفتگو چل نکلی۔خواجہ صاحب غور سے سنتے رہے۔اور بالآخر کہا کہ اتوار کے روز صبح تشریف لائیے۔ہم بھی اپنے مولوی صاحب کو بلوا لیں گے پھر دو تین گھنٹے کھل کر گفتگو ہوگی۔اب تک تو ہم سنی سنائی باتوں پر ہی تکیہ کئے بیٹھے ہیں۔محترم ماسٹر صاحب تو تھے ہی اس موقع کی تاک میں چنانچہ اتوار کو جا پہنچے اور دس بجے صبح سے لیکر ایک بجے بعد دوپہر تک اُسی دیوان خانے میں کہ جہاں سے خواجہ شفیع صاحب کے والد نے انہیں نکالا تھا۔خوب تبلیغ کی۔اور مناظرہ کی طرح ہی نہ پڑی۔اور ساری مجلس جس میں خواجہ شفیع صاحب نے چیدہ چیدہ حضرات کو بلایا ہوا تھا، محو حیرت محترم ماسٹر صاحب کی باتوں کو سنتی رہی۔بعض حضرات سوالات بھی کرتے رہے۔جس سے سلسلہ کلام طول پکڑتا گیا۔محترم خواجہ عبدالمجید صاحب بھی اس وقت برابر والے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔اس طرح آپ کو کھل کر تبلیغ کرنے کا موقع مل گیا۔اُنسی روز جب آپ گھر واپس آئے تو بہت خوش تھے۔اور کہتے تھے کہ آج اُس ذلت کی تلافی ہوئی ہے کہ جب نواب خواجہ عبدالمجید صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض غلاموں کو اپنے دیوان خانے سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا تھا۔آج خدا نے اُسی دیوان خانہ میں تین گھنٹے تک تبلیغ کرنے کا موقع عطافرمایا ہے۔یہ خدا ہی کا فضل ہے کہ اُس نے مجھ جیسے حقیر آدمی کے لئے یہ کچھ کر دکھایا۔کہاں نواب صاحب احمدیت کے بارے میں ایک لفظ سُننے کے لئے تیار نہ تھے۔اور کہاں آج اُسی دیوان خانہ کے درو دیوار تین گھنٹے تک احمدیت اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے اذکار متقدس سے گونجتے رہے ہیں۔اس کے بعد مجلس میں جانا ترک کر دیا۔اگر کسی نے اصرارہ بھی کیا تو اسے کہہ دیا کہ آب ہمیں وہاں جانے کی ضرورت نہیں۔نہ ہمیں پہلے وہاں جانے کی فرصت تھی۔ہم اگر گئے تھے تو ایک مقصد کے تحت گئے تھے وہ مقصد بفضلہ پورا ہو گیا ہے۔آپ ہمارے واسطے اُردو مجلس کی وساطت کے بغیر ہی نواب صاحب کا دیوان خانہ تبلیغ احمدیت کے لئے کھلا ہے۔ہم جب چاہیں وہاں جا کہ تبلیغ کہ سکتے ہیں۔جب وہاں جانا نترک کر دیا تو خواجہ حسن نظامی صاحب اور خواجہ شفیع صاحب ایک مرتبہ بارہ دری خواجہ میر درد میں جہاں محترم ،ماسٹر صاحب رہتے تھے۔فوراً اُن کے مکان پر آئے اور مجلس میں با قاعدگی سے آنے کی خواہش