تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 218
۲۱۸ ظاہر کی۔اُن کے کہنے سے کبھی کبھار چلے جاتے تھے لیکن دلی ذوق کے ساتھ نہیں بعد میں وہاں جانا عملاً متروک ہو گیا۔لیکن خواجہ شفیع صاحب نے بعد میں بھی احترام میں کمی نہیں کی۔اور اکثر گھر پر آکر ملتے رہے حتی کہ پاکستان بننے کے بعد بھی شاء میں محترم ماسٹر صاحب کی علالت کی خیر شت کر نا ہوں میں گھر پر ملنے آئے اور بڑی دیر باتیں کرتے رہے۔اسی طرح آپ نے ہندو کا کتھوں کے ستنتر کلب " اور دہلی کے مشہور ادارے ندوۃ المصنفین کے ساتھ جو مولانا حفظ الرحمن صاحب سیوہاروی اور مولانا سعید احمد صاحب اکبر آبادی و غیر ھم جیسے نامور علماء دیو بند پشتمل تھا۔ایک ادیب کی حیثیت سے راہ و رسم پیدا کی۔اور بعد میں وہاں تبلیغ کی ایسی طرح ڈالی کہ گھنٹوں بحث و مباحثہ کا سلسلہ جاری رہتا۔اور آپ خود انہی کی لائبریریوں میں سے اُن کے مسلمہ قائدین کی کتب نکلوا کر انہی کے حوالوں سے انہیں جواب دیتے۔یہ چند ایک واقعات مثال کے طور پر بیان کئے گئے ہیں۔ورنہ آپ کی زندگی اس قسم کے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے جو اس بات پر گواہ ہیں کہ آپ نے ایک بلند پایہ ادیب ہونے کے باوجود ادبی شہرت کو ہرگز مطمع نظر نہ بنایا۔اور اس میدان میں بھی دین کو دنیا پر مقدم رکھا۔آپ زندگی بھر میں اپنی ادبی صلاحیتوں کو صرف اس حد تک ہی بروئے کارہ کائے ، کہ جس حد تک پیغام حق پہنچاتے میں اُن سے مدد ملتی ورنہ آپ محض قصہ گوئی یا افسانہ نویسی سے کوئی علاقہ رکھنے کے لئے تیار نہ تھے۔یہی وجہ ہے کہ کبھی کوئی مخرب اخلاق قصہ آپ کی فلم سے نہ نکلا۔جو تھوڑا بہت لکھا بھی لازمی طور پر اصلاحی اور سبق آموز رنگ میں ہی لکھا۔آپ نے اپنے عمل سے احمدی ادیوں کے لئے ایک مثال قائم کر دکھائی کہ وہ ان صلاحیتوں کو کسی طور پر صحیح رنگ میں استعمال کرکے اس میدان میں بھی دین کو دنیا پر مقدم کر سکتے ہیں۔فی زمانہ احمدی ادمیوں کے لئے اس میں ایک بہت بڑا سبق مضمر ہے کیونکہ ماضی میں جن احمدی نو جوانوں نے ادب میں ضرورت سے زیادہ شغف اختیار کیا۔اُن کی ادبیت احمدیت پر غالب آگئی۔اور شہرت کی خواہش نے ان کو راہ اعتدال پر قائم نہ رہنے دیا بلکہ اُن میں سے بعض تو ہمیں اب مخالفین کی صف میں نظر آتے ہیں۔آپ کی یہ ایک بہت بڑی خوبی تھی کہ آپ صرف اور صرف احمدیت کو ہی اپنے لئے وجہ شہرت بنانا چاہتے تھے، اور کسی دنیوی امتیاز کو خواہ وہ دوسروں کی نگاہ میں کتنا ہی وقیع کیوں نہ ہو کوئی ہمیت دینے کے لئے تیار نہ تھے۔خادم احمدیت ہونا آپ کے نزدیک دنیا میں سب سے بڑا اعزانہ تھا۔باقی ہر اعزاز