تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 216
۲۱۶ بڑھتی جارہی تھی محترم ماسٹر صاحب نے دیوان خانہ سے نکلتے ہوئے نہایت پر شوکت آواز میں فارسی کا ایک شعر پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ " دولت کے گھمنڈ میں حق سے منہ موڑ نا فرزانگی کے خلاف ہے۔میل مالدار وہ ہے جو حق و صداقت کی دولت سے مالا مال ہے ؟ اس شعر کو سُنتے ہی نواب صاحب کا غصہ دھیما ہو گیا۔اور انہوں نے مزید کوئی فقرہ اپنی زبان سے نہ نکالا۔اور ہم لوگ وہاں سے چلے آئے۔اس واقعہ کے بعد میں نے دیکھا کہ محترم ماسٹر صاحب نے اس بات کی شدید خواہش ظاہر کی۔کہ وہ بھی اُردو مجلس میں شریک ہوں۔ماسٹر صاحب کے ادیب دوست تو پہلے ہی وہاں جانے پر اصرار کر رہے تھے۔آپ کے جو ایک دوست نے اصرارہ کیا، تو آپ فوراً چلنے پر آمادہ ہو گئے۔لباس انتہا سے زیادہ سادہ ہوتا تھا۔اس لئے اکثر لوگ تا وقتیکہ آپ گویا نہ ہوں ، خاطر میں نہیں لاتے تھے۔چنانچہ خواجہ شفیع صاحب نے بھی اولی کوئی توجہ نہ دی۔لیکن جب والد صاحب نے قلعہ معلی کی تد بان میں ایک کہانی پڑھ کر سنائی۔تو ٹکسالی زبان اور اندازہ بیان پر ساری محفل پھڑک اُٹھی۔اس قدر داد ملی جس کا شمار نہیں تعریف کرتے خواجہ شفیع صاحب کی زبان خشک ہو گئی محفل کے اختتام پر خواجہ صاحب نے بڑے اصرار سے درخواست کی کہ اگلے ہفتہ بھی ضرور تشریف لادیں۔چنانچہ مجلس میں جانا شروع کر دیا جب بھی جاتے خود خواجہ شفیع اور تمام دوسرے ادیب سر آنکھوں پر بٹھاتے۔اور بہت احترام کے ساتھ پیش آتے۔رفتہ رفتہ لطیفہ گوئی کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ایک مجلس میں اتفاق سے خواجہ حسن نظامی بھی تشریف لے آئے۔ماسٹر صاحب نے لطیفہ بیان کیا۔خواجہ صاحب لوٹ پوٹ ہو گئے۔بہت داد ملی۔اگلی مجلس میں پھر وہی لطیفہ بیان کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ماسٹر صاحب نے پھر لطیفہ بیان کیا۔لیکن اور ہی انداز سے۔خواجہ صاحب نے کہا آپ کے اور زیادہ مطف آیا۔خواجہ صاحب ہر ٹیلیس میں وہی لطیفہ بیان کرنے کی فرمائش کرتے حتی کہ چھ سات دنفوسنا، اور کہا کہ اتنی دفتر شن پکا ہوں لیکن طبیعت سیر نہیں ہوئی۔جی یہی چاہتا ہے کہ پھر ستوں۔ان مجلسوں میں خواجہ حسن نظامی صاحب کی بعض تحریر کردہ کہانیاں ہی نہیں۔۔۔ایک موقع پر خواجہ صاحب نے فرمایا میں ان کو بیس بائیس سال سے جانتا ہوں۔لیکن قادیانی جماعت کے ایک مبلغ کی حیثیت سے بار بار یہ میرے پاس آئے ہیں اور ہمیشہ تبلیغ کرتے ہوئے بھی آئے ہیں انہوں نے یہ کبھی ظاہر ہوتے نہیں دیا۔کہ یہ پایہ کے ادیب بھی ہیں۔مجھے کیا معلوم تھا کہ بشخص گدڑی میں لعل ہے۔اس کے بعد انہیں ” بلبل ہزارہ داستان " کا لقب دیا، اور بعد میں جب بھی یاد کرتے۔اسی لقب سے یاد کرتے۔اور اس طرح رفتہ رفتہ