تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 215 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 215

۲۱۵ آنے لگا۔اور عرف عام میں یہ خواجہ شفیع کی مجلس کہلانے لگی بعرصہ سے یہ مجلس منعقد ہورہی تھی محترم ماسٹر صاحب نے اس کی طرف کبھی توجہ نہ دی۔اگر کسی واقف کار ادیب نے اصرار بھی کیا تو بھی شرکت سے محتر نہ رہے۔اتفاق ایسا ہوا کہ ۱۹۴۷ء میں یوم التبلیغ " کے موقع پر جماعت کا جو وفد جامع مسجد اور مٹیا محل کے علاقے میں بھیجا گیا۔حضرت ماسٹر آسان صاحب کو اس کا امیر مقرر کیا گیا تھا۔اس سے قبل کسی تبلیغی وفد کے ہمراہ آپ اس علاقہ میں نہ گئے تھے۔بلکہ سالہا سال سے فیض بازارہ اور دریا گنج کا علاقہ آپ کے لئے مقرر کیا جاتا تھا۔آپ وفد لے کر گئے اور علاقے کے شرفاء سے مل کر ان تک پیغام حق پہنچایا۔اتفاق سے میں بھی اس وفد میں شامل تھا۔جب نواب خواجہ عبدالمجید صاحب کے مکان کے آگے سے گزرے تو میں نے بتایا کہ یہاں خواجہ شفیع صاحب کی اردو مجلس منعقد ہوتی ہے۔آپ نے فرما یا کہ چلو اُن کے والد خواجہ عبدالمجید صاحب سے بھی ملاقات کرتے جائیں۔دروازے پر تو کر بیٹھا ہوا تھا۔اس سے کہا۔تو اب صاحب سے کہو چند لوگ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔نوکر واپس آیا اور کہا نواب صاحب نے آپ کو اوپر دیوان خانے میں طلب کیا ہے۔ہم سب اور پر پہنچے ، نواب صاحب دیوان بہنے میں بیٹھے اپنے کسی دوست سے باتیں کر رہے تھے۔ہمیں دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے اور بڑے تپاک سے ملے اور ہمیں صوفوں پر بیٹھنے کے لئے کہا۔اس کے بعد ہم لوگوں سے مخاطب ہوئے اور کہا کہئیے آپ لوگ کس لئے تشریف لائے ہیں ؟۔محترم ماسٹر صاحب نے فرمایا " ہم جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔آج ہما را یوم التبلیغ ہے ، محترم ماسٹر صاحب نے اتنا ہی کہا تھا کہ نواب صاحب کے ماتھے پر بل پڑ گئے اور انہوں نے نہایت درشت لہجے میں کہا ” میں آپ لوگوں کی کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوں۔آپ لوگ یہاں سے چلے جائیں " ماسٹر صاحب نے نہایت نرمی اور لطافت سے انہیں پھر مخاطب کرتے ہوئے فرمایا آپ ذرا توقف فرمائیں۔صرف دو منٹ مجھے بولنے دیں اگر پھر بھی آپ سمجھیں کہ میرا بولنا آپ کے ذوق سماعت پر بار ہے، تو ہم لوگ فوراً یہاں سے پہلے جائیں گے۔محترم ماسٹر صاحب کو یہ خیال تھا۔کہ دومنٹ میں یکیں انہیں رام کریلوں گا۔اور یہ مزید بات سُننے پر آمادہ ہو جائیں گے۔مگر یہ سنتے ہی نواب صاحب کھڑے ہو گئے اور پان چہاتے ہوئے نہایت غضب ناک لہجے میں دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے۔آپ فوراً میرا دیوان خانه خالی کر دیں اور میرا وقت ضائع نہ کریں۔اُن کے کھڑے ہونے پر ہم لوگوں کو بھی کھڑا ہونا پڑا۔اور ہم نواب صاحب کے مزید تحکم پر دیوان خانہ سے چپ چاپ باہر آگئے۔نواب صاحب کے لہجے کی دورشتی