تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 214
۲۱۴ اور نظافت پیدا کر دیا۔ایک صاحب کمال ادیب اور نامور داستان گو ہونے کے باوجود آپ نے اپنی ان ادبی صلاحیتوں کو کبھی اس قدر اُجاگر ہوتے نہیں دیا کہ وہ آپ کے دینی مشاغل اور بالخصوصی تربیت و تبلیغ کے فریضے میں حائل ہو سکیں۔آپ کو یہ امر بھی گوارا نہ تھا کہ آپ اپنے حلقہ احباب میں ادیب کی حیثیت سے مشہور ہوں۔آپ نے اپنی ادبی شہرت کو ایک مبلغ اور خادم دین کی حیثیت پر قربان کئے رکھا اور یہی کوشش کی کہ دنیا مجھے احمدیت کے ایک خادم اور مبلغ کی حیثیت سے جانے۔نہ کہ ایک ادیب یا قصہ گو کی حیثیت سے۔آپ نے ادبی صلاحیتوں کو اس طور پر استعمال کیا کہ وہ تبلیغ کے کام میں حمد ثابت ہو سکیں۔یہی وجہ تھی کہ آپ از خود ادبی مجلسوں میں کبھی شریک نہیں ہوتے تھے۔اگر کوئی قدردان ادیب مجبور کرکے لے بھی جاتا تو محض ایک آدھ دفعہ جا کر پھر اُس مجلس کا رخ نہ کرتے۔بر خلاف اس کے اگر آپ یہ دیکھتے کہ ادیوں کی کسی محفل میں جانے سے تبلیغ کا راستہ گھلتا ہے تو پھر آپ ایسی محفل میں ضرور جاتے اور ادب میں اپنا سکہ منوانے اور وہاں اپنی استادان حیثیت تسلیم کرانے کے بعد رفتہ رفتہ پیغام حق پہنچانے کا راستہ اس درجہ ہموار کر دیتے کہ بال آخر دبی محفل مجلس مذاکرہ علمیہ میں تبدیل ہو جاتی اور بڑے بڑے نامور ادیب گھنٹوں آپ کی تبلیغی گفتگو کو اس محویت کے ساتھ سنتے چلے جاتے کہ گویا اس میں انہیں ایک سرور حاصل ہو رہا ہے۔دہلی میں جامع مسجد کے قریب مٹیا محل کے علاقہ میں ایک مشہور رئیس نواب خواجہ عبد المجید صاحب رہتے تھے۔اُن کے صاحبزاد خواجہ محمد شفیع دہلوی پایہ کے ادیب تھے۔انہوں نے اردو مجلس کے نام سے ایک ادبی محفل قائم کی۔اس کے اجلاس اُن کے مکان پر ہر مہفتہ منعقد ہوتے تھے۔دہلی کے شعراء اور ادیب حضرات اُس میں بکثرت شریک ہوتے۔حتی کہ خواجہ حسن نظامی صاحب مرحوم بھی اُس میں گاہے گا ہے تشریف لا کر اس کی سرسیتی فرماتے تھوڑے عرصہ میں ہی یہ ملیں اس قدر مشہور ہو گئی کہ بچے بچے کی زبان پر اس کا تذکرہ سننے میں حب ه خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی نے اپنے اخبار " منادی کے روز نامچوں میں بھی حضرت ماسٹر محمدیس تھا۔آسان اور آپ کے بیٹیوں کا نہایت محبت بھرے الفاظ میں ذکر فرمایا روز نامچه مورخه ۱۱ ۱۳۱۸ ، ۱۴ اگست و یکم اکتو بر شیرو) اخبار منادی کے وہ فائل جن میں روز نامچے شائع ہوئے۔پاکستان نیشنل سنٹر راولپنڈی فیروز سنتر بلڈنگ کی لائبریری کے ریفرنس سیکشن میں موجود ہیں۔