تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 213
۲۱۳ حضرت اسر محمد نا رسانه ای و او را یار خلوص اور مارماریس می ارزه دہلوی کو تبلیغی جوش اور ایثار وخلوص اپنے والد ماجد سے ورثہ میں ملا تھا۔چنانچہ آپ کے فرزند جناب مسعود احمد خان صاحب ہوتی ایڈیٹر روزنامہ الفضل تحریر فرماتے ہیں کہ :۔یہی جوش اور قدمت اپنی دعاؤں نمونہ اور محنت کے ساتھ اپنی پوری اولاد میں منتقل کیا۔د ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ۔آپ کو بچپن میں ہی حضور علیہ السّلام کی مجلس میں شریک ہوتے اور حضور کے روح پرور ارشادات سُنتے اور انہیں ذہن نشین کرنے کا شرف حاصل ہوا تھا۔بچپن کے زمانہ میں میسر آنے والے فیض صحبت کا ہی اثر تھا کہ آپ میں دین کے لئے غیر معمولی جوش اور غیرت کا مادہ بدرجہ اتم پایا جاتا تھا۔نہایت خوش گو اور قادر الکلام واقع ہوئے تھے۔تبلیغ کا کوئی موقع آپ ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔نہ صرف نمازیں نہایت التزام سے ادا کرتے بلکہ تہجد بھی باقاعدگی سے پڑھتے تھے۔ان اوصاف کے علاوہ آپ کی جس نمایاں خصوصیت کا ذکر کرنا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی زندگی میں ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی کوشش کی، اور جب بھی پ کی زندگی میں ایسے مواقع پیدا ہوئے کہ جن میں دین اور دنیا ایک دوسرے کے مقابل ہو کہ باقاعدہ ایک معتین مسئلے کی صورت میں سامنے آئے ، آپ نے ہمیشہ دین کو ترجیح دی اور دنیاوی فائدے، شہرت یا ناموری کو اس طرح ٹھکرا دیا کہ گویا دین کے مقابلے میں ان کی پیر کاہ کے برابر بھی کوئی حیثیت اور وقعت نہیں ہے۔حضرت ماسٹر صاحب رضی اللہ عنہ ایک خوش بیان مقرر و مناظر ہی نہیں تھے بلکہ ایک جادو بیان داستان گو اور پایہ کے ادیب بھی تھے۔جب کوئی دردناک قصہ بیان کرتے تو پتھر سے پتھر دل بھی موم ہو کر کھیل جاتے اور دردناک واقعات پر آنسو بہائے بغیرز رہتے۔اُس پر حاضر دماغی اور بذلہ سنجی کا یہ عالم تھا کہ آپ کی لطیفہ گوئی پر مغل کشت زعفران بن جاتی۔سامعین کو رمانا اور ہنسانا آپ کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔جہانتک تحریہ کا تعلق ہے قلعہ معلی کی زبان لکھنے میں آپ کو مہارت تامہ حاصل تھی۔اول تو لکھتے ہی بہت کم تھے۔اگر کبھی قلم اٹھاتے تو باغ و بہار کھلا دیتے۔الفاظ موتیوں کی طرح پیڑے ہوئے دلی کی ٹکسالی زبان میں چھوٹے چھوٹے سادہ تھیلے اور اُس پر بات بات میں موقع اور محل کے مطابق محاوروں کا استعمال عبارت میں ایک عجیب رنگیتی