تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 212 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 212

اقدس نے قیام لدھیانہ کے دوران یہ اشتہار دیا تو " میں سب کام چھوڑ کر لودھیا نہ حاضر ہوا تو مخالفت کا بہت زور تھا مولوی محمود الحسن خانصاحب احمدی بھی جو دہلی کے قرب وجوار کے رہنے والے اور پٹیالہ میں مدرس ہیں آئے ہوئے تھے بعض کیا کہ حضور اب ہم ہر میگہ اعلان کریں کہ جو عیسی علیہ السلام آنے والے تھے آگئے اور علی السلام بھی ساتھ میں لکھیں حضور نے فرمایا کہ بے شک یہی کہو اور علیا سلام بلکہ صلوۃ بھی کہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نام کے ساتھ صلوۃ کا لفظ فرمایا ہے۔حضرت مولوی محمود الحسن خانصاحب کا نام حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے اپنے مخلصین میں نہ صرف اپنی مشہور کتاب ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ ۸۳۲ پر بلکہ ضمیمہ انجام آتھم " ۳۱۳ اصحاب خاص کی فہرست میں ۳۰۱ نمبر پر درج فرمایا۔کو کو حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خانصاحب نے آپ کے اخلاص اور دیتی اور تبلیغی اخلاص و فدائیت عرش کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے :- جوش "آپ سادہ مزاج مگر با وقار احمدی تھے باوجود دیکہ قلیل آمدنی رکھتے تھے مگر چندہ کی ادائیگی با قاعدہ کیا کرتے تھے۔جب شراء میں میں سیکرٹری مال جماعت پٹیالہ بنا اور چندہ وغیرہ کی وصولی کا کام میرے سپرد ہوا تو میں نے آپ کا یہ نیک کردار دیکھا کہ جس روز آپ کو تنخواہ ملتی تو گھر جانے سے پہلے اکثر چند ادا کرتے تھے۔اس ڈر سے کہ گھر جانے پر رقم خرچ نہ ہو جائے۔اگر چہ ہماری جماعت پیٹیالہ کے پریذیڈنٹ حضرت مولوی عبید اللہ صاحب عربی پروفیسر تھے اور وہی نماز جمعہ پڑھایا کرتے تھے۔لیکن میری دلی خواہش یہ ہوتی تھی کہ حضرت مولوی محمود الحسن صاحب پڑھائیں کیونکہ آپ کے خطبہ میں اخلاص اور جوش ایا جانا تھا، چنانچہ متعدد بار آپ کے پیچھے نماز جمعہ پڑھنے کا موقع ملا۔آپ کا پُر جوش خطبہ صرف اور صرف اس مضمون مشتمل ہوتا تھا کہ نو جوانوں کو یورپ میں جا کہ تبلیغ اسلام کی تحریک کی جائے۔المختصر سلسلہ کے حد درجہ خدائی اور جوشیلے بزرگ تھے۔چونسٹھ برس کی عمر میں انتقال فرمایا سنور اور پٹیالہ کی جماعت تجہیز و تکفین میں شریک تھی۔اسٹیشن پٹیالہ کے قریب قبرستان میں دفن ہوئے ہے ل تذكرة المهدی حقہ اوّل مؤلفہ حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی مطبوعہ جون شاء - ه غیر مطبوعہ تحریر و کبر حضرت محمد حسن آسان کا بیان ہے ، مرتے وقت وصیت کی کہ حضرت با یزید بسطامی روز مرہ کے کپڑوں میں دفن ہوتے تھے مجھےبھی ایک جوڑا جو پہلے سے دھلا ہوا موجود تھا، پہنا کر ایک چادر میں لپیٹ دینا چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔المحکم ۱۲۰ اکتوبر ۹۳۷ مث )