تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 211 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 211

۲۱۱ کا خاص فضل و اکرام اور اس موسیبت الہی کے نزول کی وجہ صرف والد صاحب کا وہ عشق الہی ہی معلوم ہوتا ہے۔ایک دفعہ والد صاحب اپنی سسرال میں والدہ صاحبہ کو پہنچانے پٹیالہ آئے نانا شیخ فخر الدین صاحب اس وقت مجسٹریٹ تھے۔نانا صاحب نے براہین احمدیہ کا ایک نسخہ یہ کہہ کر دیا کہ مولوی صاحب! پنجاب میں ایک بزرگ دہریوں اور بالخصوص سرسید صاحب جیسوں کے سر کچلنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔والد صاحب نے بہت بے رعیتی سے کتاب لے لی لیکن جب چیلی فلم میں اشتہار دیکھا اور پڑھا، والد صاحب فرماتے تھے کہ میرا سانسی سینہ میں اچھلنے لگا۔بے ساختہ زبان سے نکل گیا کہ واقعی یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور معلوم ہوتا ہے۔والد صاحب کتاب کو ساتھ لے گئے۔اور کئی دفعہ کتاب کو مطالعہ کیا۔کچھ عرصہ بعد پھر پٹیالہ آئے اور نانا صاحب کو کتاب واپس کرنی چاہی لیکن نانا صاحب نے کہا کہ دنعوذ باللہ) شخص بے دین ہو گیا ہے کیونکہ قوت کا مدعی ہے۔آپ اس کتاب کو آپ ہی رکھیں۔اس وقت والد صاحب کے دا، میں حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہونے کا بیحد اشتیاق ہوا۔خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ اگر تیرے متقدرات میں قریب ہی میری موت مقدر ہے تو اپنے فضل سے اُس وقت تک زندہ رکھ کہ اس مہینہ کی تنخواہ ہل جائے۔اور میں اس بزرگ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں تنخواہ ملنے پر آپ لدھیانہ روانہ ہو گئے اور خدمت اقدس میں باریابی حاصل کی۔اس وقت دو چار احباب حاضر خدمت تھے جن میں ایک بزرگ حضرت پیر سراج الحق صاحب بھی تھے۔۔۔وہاں آپ نے جبری اللہ فی حلل الانبیاء سیدنا حضرت بیرونی اتم محمد مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بعیت میں داخل ہونے کا شرف حاصل کیا۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدِدَ الِهِ وَ أَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ر ما را الشراء کو ایک ضروری اشتہار مطبع دیدیہ اقبال رتی لدھیانہ سے شائع فرمایا جس میں علمائے وقت کو اپنے عقائد کی حقانیت پر تحریری مباحثہ کی دعوت دی تھی۔حضرت پیراج الحق صاحب نعمانی جمالی رانسوی سر سادگی کا بیان ہے کہ جب حضرت الحكم قادیان ۲۱ اکتو بر سایر مت (مضمون حضرت ماسٹر محمدحسین آستان ) ہے۔مجموعہ اشتہارات حضرت مسیح موعود علیه السلام جلد اول ص ۲ تا ۲۰۳