تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 193 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 193

۱۹۳ پس وقف محض مذہبی ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ مذہبی اور دنیوی دونوں قسم کا ہوتا ہے اور واقفین ہر قوم ، ہر ملک اور ہر زمانہ میں پائے جاتے ہیں۔اصل میں وقف زندگی اور حیات کے کامل مظاہرہ کا نام ہے۔جب کسی کی دینی دور عروج اور کمال کو پہنچ جاتی ہے تو وہ دین کا واقف زندگی بن جاتا ہے اور جب اس کی دنیوی روح عروج اور کمال کو پہنچ جاتی ہے تو وہ دنیا کا واقف زندگی بن جاتا ہے۔جب ایک شخص کی قوتوں اور اس کے روپیہ کی اس کی قوم اور ملک کو ضرورت ہو اور وہ اس کی خاطر اپنا ذاتی مفاد ترک کر دے اور اس کی خدمت میں لگ جائے تو یہ اس کی دنیوی مکہ رج کے کمال اور عروج کا مظاہرہ ہوتا ہے اور وہ واقف زندگی کہلاتا ہے اور جب اس میں دین کی روح اپنے کمالی اور عروج کو پہنچ جاتی ہے اور وہ دین کی خاطر اپنا ذاتی مفاد ترک کر دیتا ہے تو وہ روحانی واقف زندگی بن جاتا ہے۔وقف کی روح اور زندگی کو جماعت میں قائم رکھنے کے لئے جماعت کے افراد کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے پیش کرنا چاہئیے۔چاہے وہ مرکزی ہدایات کے ماتحت کام کرنے کے اہل نہ بھی ہوں اور وہ یہاں کہ کہ کام بھی نہ کر سکیں لیکن جاعت میں اس قسم کا ذہنی رجحان پایا جانا چاہیے۔اور اس کے نوجوانوں کی ایسے رنگ میں تربیت ہونی چاہئیے کہ جب بھی قوم انہیں جائے وہ اپنا سب مفاد ترک کر کے آجا ئیں تھی۔لے رسالہ " الفرقان که یه جنوری ۵۶ار ۱۵۱۱۲