تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 8
A واقعات کا تسلسل میرے دماغ میں شروع ہو جاتا ہے بلکہ کراچی آتی دفعہ ریل میں ایک سورۃ میرے دماغ میں آئی جس کے بعض حصے لوگوں سے اب تک حل نہیں ہو سکے تھے اور با وجود بیماری کے اس سورۃ کی شرح وبسط میں نے کرنی شروع کی اور وہ تفسیر عمدگی کے ساتھ حل ہونی شروع ہوئی۔تب میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اے خدا! ابھی دنیا تک تیرا قرآن صحیح طور پر نہیں پہنچا اور قرآن کے بغیر نہ اسلام ہے نہ مسلمانوں کی زندگی۔تو مجھے پھر سے توفیق بخش کہ میں قرآن کے بقیہ حصہ کی تفسیر کر دوں اور دنیا پھر ایک لمبے عرصے کے لئے قرآن شریف سے واقف ہو جائے اور اس پر عامل ہو جائے اور اس کی عاشق ہو جائے۔بہر حال آج میری طبیعت پچھلے چند دن سے بہت اچھی معلوم ہوتی ہے کچھ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ سفر کی پریشانیاں جو پیدا ہو رہی تھیں وہ دور ہو رہی ہیں۔پچھلے دنوں اختر صاحب اور مشتاق احمد صاحب باجوہ جو کام کے لئے جاتے رہے تو اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے یہ نہیں سمجھتے تھے کہ فورا ر پورٹ نہ پہنچی تو مجھے صدمہ ہوگا۔دو چار دن کے تجربہ کے بعد یکی نے خود اس بات کو محسوس کر لیا ہے اور انہیں ہدایت کر دی کہ جب وہ باہر جایا کریں تو ایک زائد آدمی سیکر جایا کریں اور اسے اس وقت کی رپورٹ دے کر میرے پاس بھجوا دیا کریں تا کہ مجھے پتہ لگتا ہے جب سے اس پر عمل ہوا ہے میری گھبراہٹ اور پریشانی دور ہونی شروع ہو گئی اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے طبیعت میں سکون ہے۔خدا نے یہ بھی فضل کیا کہ جہاز کے ٹکٹوں کے ملنے کے غیر معمولی سامان ہوگئے اور ایکسچینج کے ملنے کے سامان بھی پیدا ہو گئے۔اس موقع پر اسلامی ممالک کے بعض نمائندوں نے غیر معمولی شرافت کا ثبوت دیا۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے اِن کے ملکوں کو عزت اور ترقی بخشے۔اس واقعہ سے طبیعت میں اور بھی زیادہ سکون پیدا ہوا کے سوا ملک چھپ گیا :