تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 186 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 186

(AY۔۔استہزاء کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔اُن کے دلوں میں خدا تعالیٰ کے وجود کی بھی کچھ وقت اور عظمت نہیں۔بلکہ اکثر اُن میں سے الحاد کے رنگ سے رنگین اور دہریت کے رگ وریشہ سے پیر اور مسلمانوں کی اولاد کہلا کہ پھر دشمن دین ہیں۔جو لوگ کالجوں میں پڑھتے ہیں۔اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ ہنوز وہ اپنے علوم ضروریہ کی تحصیل سے فارغ نہیں ہوتے کہ دین اور دین کی ہمدردی سے پہلے ہی فارغ اور مستعفی ہو چکتے ہیں۔یہ میں نے صرف ایک شاخ کا ذکر کیا ہے جو حال کے زمانہ میں ضلالت کے پھلوں سے لدی ہوئی ہے۔مگر اس کے سوا صدہا اور شاخیں بھی ہیں جو اس سے کم نہیں۔۔۔۔۔یہ کہ سچین قوموں اور تثلیث کے حامیوں کی جانب سے وہ ساترانہ کارروائیاں ہیں کہ جب تک ان کے اس سحر کے مقابل پر خدا تعالیٰ وہ پرزور ہاتھ نہ دکھا دے جو معجزہ کی قدرت اپنے اندر رکھتا ہو اور اس معجزہ سے اس سحر کو پاش پاش نہ کرے تب تک اس جادوئے فرنگ سے سادہ لوح دلوں کو مخلصی حاصل ہوتا بالکل قیاس اور گمان سے باہر ہے۔سو خدا تعالیٰ نے اس جادو کے باطل کرنے کے لئے اس زمانہ کے سچے مسلمانوں کو بیعجزہ دیا کہ اپنے اس بندہ کو اپنے الہام اور کلام اور اپنی بہ کات خاصہ سے مشرف کرکے اور اپنی راہ کے باریک علوم سے بہرہ کامل بخش کے مخالفین کے مقابل پر بھیجا اور بہت سے آسمانی تحائف اور علوی عجائبات اور روحانی معارف و دقائق ساتھ دئے تا اس آسمانی پتھر کے ذریعہ سے وہ موم کا بت توڑ دیا جائے جو سحر فرنگ نے تیار کیا ہے۔سوا کے مسلمانو ! اس عاجیہ کا ظہوبہ ساحرانہ تاریکیوں کے اٹھانے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک معجزہ ہے۔کیا ضرور نہیں تھا کہ سحر کے مقابل پر معجزہ بھی دُنیا میں آتا۔کیا تمہاری نظروں میں یہ بات عجیب اور انہونی ہے کہ خُدا تعالیٰ نہایت درجہ کے مکروں کے مقابلہ پر جو سحر کی حقیقت تک پہنچ گئے ہیں ایک ایسی حقانی چمکار دکھاؤ جو معجزہ کا اللہ رکھتی ہو۔اکے دانشمند و ! تم اس سے تعجب مت کرو کہ خدا تعالے نے اس ضرورت کے وقت میں اور اس گہری تاریکی کے دنوں میں ایک آسمانی سروشتی نازل کی اور ایک بنیاد کو صحت عام