تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 185 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 185

۱۸۵۔۔وزیر تعلیم مغربی پنجاب کے پاس گیا اور اُن سے کہا کہ گورنمنٹ نے سرگوں ہوا اور متشکری میں دو کالج بنائے ہیں اور اُن پر ۳۵ لاکھ روپیہ کے قریب رقم خرچ کی ہے آپ ہمیں اس رقم کا ۲۵ فیصدی دیدیں تو نہ صرف ہمارا کالج بن جائے گا بلکہ گورنمنٹ کو پتہ لگ جائے گا کہ اس کا روپیہ کہاں جاتا ہے تو وہ کہتے لگے آپ کو کالج جانے کے لئے روہ یہ نہیں دیا جا سکتا۔پس ہردیکھنے والے کے لئے یہ یقینا معجزہ سے کم نہیں کہ گذشتہ سات سال کے عرصہ میں جماعت احمدیہ نے نہ صرف تعلیمی اداروں کو جاری رکھنے پر لاکھ روپیہ سے زائد رقم خرچ کی بلکہ ان اداروں کی تعمیر پر جو اخراجات آئے وہ بھی برداشت کئے اور خدا تعالیٰ کا جو فضل اس جماعت کے شامل حال رہا وہ بھی کسی معجزے سے کم نہیں کہ اس نے کم سے کم لاگت میں بڑی لاگت کی عمارات تیار کر لیں۔ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ اب میں اس سوال کو لیتا ہوں کہ ایک غریب جماعت اس قدر توجہ اور اس قدر روپیہ ان تعلیمی اداروں پر کیوں خرچ کر رہی ہے۔اس "کیوں" کا جواب ہر احمدی کو ملنا چاہیے۔اس کا ایک جواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب " فتح السلام " کے مندرجہ ذیل اقتباکس میں دیا گیا ہے۔آپ فرماتے ہیں :۔" اے حق کے طالبو ! اور اسلام کے سچے محبو ! آپ لوگوں پر واضح ہے کہ یہ زمانہ جس میں ہم لوگ زندگی بسر کر رہے ہیں یہ ایک ایسا تاریک زمانہ ہے کہ کیا ایمانی اور کیا عملی حسین قدر امور میں سب میں سخت فساد واقع ہو گیا ہے۔اور ایک تیز آندھی ضلالت اور گمراہی کی برطرف سے چل رہی ہے وہ چیز جس کو ایمان کہتے ہیں اس کی جگہ چند لفظوں نے لے لی ہے جس کا محض زبان سے اقرار کیا جاتا ہے اور وہ امور جن کا نام اعمالِ صالحہ ہے اُن کا مصداق چند رسوم یا اصراف اور ر بیاد کاری کے کام سمجھے گئے ہیں اور جو حقیقی نیکی ہے اس سے بکتی ہے خیری ہے۔اس زمانہ کا فلسفہ اور طبیعی بھی روحانی صلاحیت کا سخت مخالف پڑا ہے۔اس کے جذبات اس کے جاننے والوں پر نہایت بد اثر کرنے والے اور حکمت کی طرف کھینچنے والے ثابت ہوتے ہیں وہ زہریلے مواد کو حرکت دیتے اور سوئے ہوئے شیطان کو جگا دیتے ہیں۔ان علوم میں دخل رکھنے والے دینی امور میں اکثر ایسی بد عقیدگی پیدا کر لیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ اصولوں اور صوم و صلواۃ وغیرہ عبادت کے طریقوں کو تحقیر اور