تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 187 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 187

JAL کے لئے خاص کر کے بغرض اعلاء کلمہ اسلام دا شاعت نور حضرت خیر الانام اور تائید مسلمانوں کے لئے اور نیز اُن کی اندرونی حالت کے صاف کرنے کے ارادہ سے دُنیا میں بھیجات اس کے علاوہ تذکرہ ریعنی حضرت مسیح موعود کے الہامات کے مجموعہ) پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کے اداروں کو بعض اصولوں پر قائم کیا ہے۔مثلاً آپ کا ایک الہام ہے :- انتَ مَدِينَةُ الْعِلْمِ طَيِّبُ مَقْبُولِ الرَّحْمَنِ۔یعنی تو علم کا شہر ہے پاک اور خدا تعالیٰ کا مقبول ہے۔قرآنی محاورہ کے مطابق اس الہام کی متعدد تشریحات ہوسکتی ہیں۔کیونکہ کلام الہی میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ وہ ہر موقع کے مطابق ایک نیا مفہوم پیدا کرتا ہے۔مثلاً قرآنی محاور کے مطابق اس کے ایک معنی یہ ہو سکتے ہیں۔کہ انتَ صَاحِبُ مَدِينَةِ الْعِلْمِ کہ آپ علوم کے دارالخلافہ کے شہنشاہ اور ان علوم کے منبع اور میداد ہیں جنہیں جماعت احمدیہ جاری کرنا چاہتی ہے۔ان علوم میں (جو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ قائم کی گئی یو نیورسٹی اور دارالعلوم میں سکھانے جائیں گے۔یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ شعرا اس کے پاس بھی نہیں پھٹکتے۔جیسے آپ کا الہام ہے کہ " در کلام تو چیزی است که شعر را در ان دخلے نیست " اسی طرح آپ کا ایک الہام ہے رَبّ عَلَّمْنِي مَا هُوَ خير عندك کہ اے اللہ تو مجھے وہ کچھ سکھا جو تیرے نزدیک میرے لئے بہتر ہے۔دنیا میں بعض علوم ایسے بھی ہیں جو انسان کے لئے با برکت نہیں ہوتے یا اُسے اُن کی ضرورت نہیں ہوتی مثلاً بعض علوم محض فلسفیانہ مباحث ہیں یا ایسے نظریات ہیں جو ہر وقت بدلتے رہتے ہیں، اگر کسی علم کے چند ماہرین پائے جاتے ہیں تو اُن میں سے نہ صرف ہر ایک کے نظریات مختلف ہوں گے بلکہ وہ ہر وقت بدلتے رہیں گے۔آج بھی مختلف سائنسدانوں نے مختلف نظریات دنیا کے سامنے پیش کئے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اگر آج ایک سائنسدان نے ایک نظریہ پیش کیا ہے تو دس بیس سال کے بعد وصرا سائنسدانا کے رام سے فتح السلام صت - ه تذکره ۳۶ -