تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 161
141 بھائی عبد الرحمن صاحب قادیان کا ذکر حبیب " کے موضوع پر تھا، جو صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاب ہی نے پڑھ کر سنایا ہے جو نہایت ایمان افروز چشم دید واقعات پر مشتمل تھا۔آپ کے بعد حضرت حکیم خلیل احمد صاب مونگھیری نے زندہ خدا " کے عنوان پر تقریر فرمائی۔نماز ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد دوسرا اجلاس صا حبزادہ میاں عبد السّلام صاحب تمر کی صدارت میں پودا جین میں مولوی محمد حفیظ صاحب بقا پوری نے اسلام کا نظریہ حیات " کے عنوان پہ اور مولانا محمد سلیم صاحت نے اسلامی اصولوں کی بہتری " کے موضوع پر تقریر کی۔ان تقاریر کے درمیان مشہور احمدی شاعر جناب قیسی مینیائی صاحب نے اپنا کلام سنایا۔جلسہ کا دوسرا دن پروگرام کے مطابق اس کی کاروان سید معین الدین یا اپنے کنٹ حیدر آباد دکن کی صدارت میں ہوئی۔پہلے اجلاس میں جن فاضل مقررین نے خطاب فرمایا اُن کے نام یہ ہیں۔جناب مولوی بشیر احمد صاحب مبلغ کلکنت ، جناب مولوی تشریف احمد صاحب یم۔امینی - حضرت حکیم خلیل احمد صاحب مونگھیری - دوسرے اجلاس میں جو حضرت حکیم صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا۔میاں عبدالسلام صاحب کمر اور مباشہ محمد عمر صاحب مربی سلسلہ کی تقاریر ہوئیں۔جلسہ کا تیسرا دن ۲۸ دسمبر | تیسرے دن کا پہلا اجلاس محترم جناب شیخ بشیر احمدحمان ایڈوکیٹ کی صدارت میں ہوا جس میں مولوی غلام باری صاحب سیف پروفیسر جامعہ محمدیہ ربوہ مولوی بشیر احمد صاحب مبلغ کلکتہ اور محمدکریم اللہ صاحب ایڈیٹر ہفت روزہ " آزاد نوجوان" نے تقاریر کیں۔صدارتی تقریر میں محترم شیخ صاحب نے تعلق باللہ کی طرف توجہ دلائی جو مذہب کا اصل مقصد ہے۔آخری اجلاس میں جو حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب فاضل جٹ کی زیر صدارت ہوا، بالترتیب مولوی لینشیراحمد صاحب فاضل اور مولوی محمد سلیم صاحب نے سیکھے مسلم ہندو استحاد اور جماعت احمدیہ کے مستقبل پر تقاریر کیں۔آخر میں صاحب صدر نے بھارت اور دیگر ممالک سے آمدہ تاریں سُنائیں۔نیز وزیر اعلی پنجاب جناب بھیم سین سچر اور دیگر وزراء کے علاوہ سردار دیوان سنگھ صاحب مفتون ایڈیٹر سے یہ مضمون اخبار "بدر" ۱۴ تا ۲۰ مار یا تو میں چھپ گیا۔