تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 160
14۔خصوصاً قادیان کی جماعت کو چاہیے کہ اپنے ارد گرد کے ہندؤوں اور سکھوں سے ایسے گھل مل کر رہیں اور ایسے پریم و محبت سے رہیں کہ ان کو معلوم ہو جائے کہ احمدی ان کی تمہ تقی کے خواہاں ہیں۔ان کے بدخواہ نہیں۔حضرت باوا نانک کو دیکھو کہ کس طرح اکیلے اُٹھے اور خالص اسلامی علاقوں منان اور ہزارہ میں چلے گئے وہاں دعائیں کیں۔اور چلہ کشیاں کیں اور اپنے سے محبت پیدا کرنے والے لوگ پیدا کرلئے۔تم بھی اگر خداتعالی سے تعلق پیدا کرو گے اور تہجد اور ذکر الہی پر زور دوگے تو تمہارے ارد گرد کے رہنے والے لوگ تم سے دُعائیں کروائیں گے تم سے محبت کریں گے اور تمہاری بزرگی کا اثر ان کے دلوں پر ہو گا۔اب تم میں سے ہر شخص یہ بھول جائے کہ وہ زید یا بکر ہے ، بلکہ یہ یقین کرلے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خلیفہ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس ملک میں نمائندہ ہے۔پس اپنے مقام کو سمجھو اور مجھے یہ خوش خیریاں بھجواؤ کہ خدا تعالیٰ نے تمہاری زبانوں میں اثر دیا ہے اور جوق در جوق لوگ احمدیت میں داخل ہو رہے ہیں اور تمہارے ایمانوں میں اتنی طاقت دی ہے کہ قادیان کی مالی حالت روز بروز درست ہوتی جا رہی ہے۔اور تبلیغ کا سلسلہ وسیع ہو رہا ہے۔والسلام مرز امحمود احمد خلیفة المسیح الثانی حضور کا یہ پیغام بھارتی احمد یوں بالخصوص درویشان قادیان کے جوش عمل، تبلیغی ولولہ اور ذوق دعا میں غیر معمولی اضافہ کا موجب ہوا، اور اس نے ان کے اندر ایک نئی روح پھونک دی۔بھارت کے احمدی جو تقسیم ملک سے قبل اپنے محبوب آقا کی زیارت اور زندگی بخش کلمات سننے کے لئے دیوانہ وار آتے تھے۔آپ اس بے تابی اور بیقراری کے ساتھ حضور کا یہ پیغام سن رہے تھے۔اور پھر اس کا حضور ہی کے لخت جگر کے منہ سے سننا قند مگریہ کا سارے ناگ رکھتا تھا۔اس پیغام کے بعد پروگرام کے مطابق پہلا مضمون حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خادم خاص حضرت که روزنامه "بدر" قادیان ، جنوری ۷/۶۱۹۵۶/ صلح ۳ ما۔