تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 162 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 162

(47 ہفت روزہ "ریاست دہلی کے خطوط بھی سُنائے اور انتظامات جلسہ کے لئے حکام کا شکریہ ادا کیا۔اور پھر حاضرین سمیت ایک پر سوز لمبی دعا کرائی ہے جلسہ کے سامعین اس جلسہ میںپاکستانی قافلہ اکتالیس افراد مشتمل تھا جن کے علاوہ کم و بیش مزید استی پاکستانی احمدی شامل حلیہ ہوئے۔بھارت سے جن دو سو میں احباب نے شرکت کی اُن کا تعلق مندرجہ ذیل مقامات سے تھا :- (۱) کشمیر ( آستور - دنتی نگر ) - (۳) جموں (جموں شہر بھدرواہ) - (۳) ریاست چنبه - رہ) - یوپی (بریلی ولکھنو وغیرہ ) - (۵) بمبئی (ہمیٹی شہر - مبلی) - (4) بہار وبھا (4) بهار و بھاگلپور وغیره۔ے)۔اڈلیہ (سو گھڑہ - کیرنگ ) - (۸) دکن (حیدر آباد - سکندر آباد۔تیما پور چفتہ کنٹر۔یاد گیر ) - (۹) بنگال (کلکتہ بھرت پور ) - (۱۰) جنوبی ہند (شموگہ و غیره الله جلسه مستورات جلسه مستورات حضرت مولوی عبد المغنی صاحب کے مکان سے ملحقہ چار دیواری کے اندر منعقد ہوا۔جہاں سات سو سے اوپر خواتین کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔۲۶ ر اور ۲۸ دیمر کا مردانہ پروگرام یہاں بذریعہ لاؤڈ سپیکر سنایا گیا اور ۲۷ دسمبر کو احمد مستورات کی تقاریر ہوئیں۔قادیان کی روحانی فضا ہمیشہ دعاؤں سے معمور رہتی ہے۔مگر جلیہ کے قادیان کی روحانی فضا | ان مبارک ایام کا رنگ ہی جدا تھا۔ایسا محسوس ہوتا تھا کہ زمانہ چودہ صدیاں پیچھے کی طرف ہٹ گیا ہے۔سے وہی نے ان کو ساقی نے پلادی : فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعادِي مکرم سید عبد السلام صاحب سیالکوٹی کا معمول تھا کہ آپ ان دنوں تہجد کے لئے خاص التزام سے جگاتے اور اس غرض سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ اشعار نہایت بلند آواز سے پڑھتے تھے کہ ار کون روتا ہے کہ حسیں سے آسماں بھی رو پڑا ، مہرومہ کی آنکھ تم سے ہوگئی تاریک و تار یکیں وہ پانی ہوں جو آیا آسماں وقت پر : یکیں وہ ہوں اور خدا میں سے ہوا دن آشکار ه "بدر" ناویان ، جنوری ار م۔ایضاً۔۵۶ {