تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 159 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 159

۱۵۹ مسجد مبارک میں مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کر کے ادا کی گئیں۔پھر بہت الدعا میں نوافل ادا کئے گئے۔آٹھ بجے مہاشہ محمد عمر صاحب فاضل کی مسجد مبارک میں تقریر تھی جس کا عنوان تھا " قبول احمدیت کے واقعات "۔به تقریر مولوی بشیر احمد صاحب مبلغ وامیر جماعت ہائے احمد یہ دہلی کی صدارت میں ہوئی۔"۔یہ جلسہ کا افتتاح اور ۲۲ دسمبر شام کو صبح دس بجے سابقہ زمانہ جلسہ گاہ میں جلسہ شروع ہوا۔سٹیج کے دائیں جانب کرسیاں بچھائی گئی تھیں۔حضرت مصلح موعود کا پیغام بائیں طرف سوائے احمدیت لہرا رہا تھا۔پہلا اجلاس امیر قافلہ محترم جناب شیخ بشیر احمد صاحب کی صدارت میں شروع ہوا۔تلاوت و نظم کے بعد طلبہ کا افتتاح حضرت علینہ ایسی الثانی رضی اللہ عنہ کے روح پرور پیغام سے ہوا جو صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ناظر دعوت و تبلیغ و افر جاسہ سالانہ نے پڑھ کر سنایا۔حضور کے اس اثر انگیز پیغام کا متن یہ تھا ہے اعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِي هُوَ الله ہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ماهير برا در این جماعت احمدیہ مہندوستان! السلام عليكم ورحمة الله و بركاته۔پاریشی کے بعد اکثر حقہ جماعت کا پاکستان آگیا اور ادھر جماعت بہت کم رہ گئی مگر بڑا نقص یہ ہوا ہے کہ جماعت کے اکثر حصہ اور خود میرے ادھر آجانے کی وجہ سے وہ چوکش اور اخلاص ہندوستانی جماعت میں نہیں رہا جو پہلے ہوتا تھا۔اکے عزیزو ! مذہب کا تعلق کسی شخص یا چند افراد سے نہیں ہوتا بلکہ ہر شخص کا تعلق خدا تعالیٰ سے براہ راست ہے۔پس ہمت کرو اور دلوں کو مضبوط کرو اور تبلیغ کو وسیع کرو اور اپنے ارد گرد کے ہر مذہب اور ملت کے آدمیوں تک پیغام حق پہنچاؤ۔سه حال ناظر دعوت و تبلیغ قادیان -