تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 152 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 152

۱۵۲ اثر ظاہر ہو سکتا ہے۔اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ شاہ صاحب کے موجودہ سفر کو ان کے پہلے سفر سے بھی زیادہ کامیاب کرے اور وہ پہلے سے میں کئی گنا زیادہ جماعت وہاں چھوڑ کر کامیابی و کامرانی کے ساتھ واپس آئیں۔" اس کے بعد حضور نے اجتماعی دعا کرائی۔اور تشریف لے جانے سے قبل جامعتہ المبشرین کے طلبہ کو شرف مصافحہ عطا فرمایا۔اور اس طرح بہ با برکت تقریب اللہ تعالیٰ کے حضور دُنیا میں علیہ السلام کی دعاؤں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی ہے حضرت شاہ صاحب دمشق میں تین ماہ تک قیام فرمار ہے اور جیسا کہ آپ نے اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھا ہے۔مشق میں ایک مضبوط جماعت دیکھ کر آپ پر رقت طاری ہوگئی اور آپ کے آنسوؤں سے سجدہ گاہ تر ہو گئی۔دورانِ قیام آپ نے نہ صرف یہ کہ جمعہ کے خطبات اور ہفتہ وار اجلاسوں میں ابدال التام سے خطاب فرمایا بلکہ اسلامی اور اشترا کی اصولوں کے موازنہ پر ایک کتاب بھی تصنیف فرمائی جود مشق کے ایک مخلص احمدی سید ابو الفرج نے ٹائپ کی۔اس طرح خدا کے فضل و کرم سے آپ کو اس سفر میں کئی اہم تربیتی و تبلیغی خدمات دینیہ بجا لانے کی توفیق ملی۔صوبہ مدراس اور جنوبی ہند کے قریب شہر سے مدراس میں ایک اردو مہفت روزہ آزاد نوجوان کے نام سے جاری ہے۔اس اخبار کے مدیر احمدیوں کے نام محبت بھرا پیغام محمد کریم اللہ صاحب کی درخواست پر حضرت علی مولود نے صوبہ مدراس اور جنوبی ہند کے احمدیوں کے لئے حسب ذیل پیغام عطا فرمایا جو دسمبر منہ کے آخر میں اس رسالہ کے رار حلمات سلطان قلم نمبر کی زینت بنا اور حضورکے ارشاد پر اخبار بد رنویر رات میں بھی اشاعت پذیر ہوا۔اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم " نحمده ونصلى على رسوله الكريم حوالے خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔بر اوزان صوبہ مدراسی و جنوبی ہند ! اللہ تعالیٰ نے اسلام ایسے وقت میں بھیجا کہ جب کہ ه روزنامه الفضل ریوه در دسمبر ۹۵۵ مه سه (غیر مطبوعہ) اس کا مسودہ شعبہ تاریخ احمدیت ه ریوہ میں محفوظ ہے۔۳۔"بدر" قادیان ۱۴ جنوری ۶۱۹۵۶ م (۴) صلح ۱۳۳۵ ش) -