تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 151 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 151

141 حضرت مصلح موعود کے ارشاد پر سید زین العابدین ایک الوداعی دعوت میں سید صلح موعود کا خط ولا الہ شاہ صاحب مبین اسلام کی حیثیت سے دمشق روانہ ہو رہے تھے۔آپ کے اعزاز میں جامعتہ المبشرین کے اساتذہ اور طلبہ کی طرف سے ۴ دسمبر ۱۹۹۵ء کو ایک الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔جس میں مولانا ابو العطاء صاحب پرنسپل جامعتہ المبشرین نے تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ دمشق کو احمدیت کے ساتھ کتنا گہرا تعلق ہے۔اس موقع پر حضرت زین العابدین سید ولی اللہ شاہ صاحب نے حضرت مصلح موعود کے لطف و احسان کے بہت سے ایمان افروز واقعات بیان کئے کہ حضور نے ابتدا سے ہی کس قدر محنت اور دلچسپی کے ساتھ آپ کی زندگی میں دینی شعف کی روح پھونک دی۔آخر میں سیدنا حضرت مصلح موعود نے خطاب فرمایا جس میں اُن حالات پر اختصار سے روشنی ڈالی۔جن کے تحت ابتدا میں محترم شاہ صاحب کو تبلیغ کی عرض سے بلا د عر بیہ بھیجا گیا تھا اور فرمایا کہ: اس مرتبہ بھی جب میں دمشق گیا تو میں نے دیکھا کہ آپ بھی وہاں لوگوں کے دلوں میں شاہ صاحب کا بہت احترام ہے۔اور وہ اُن کی بہت تعریف کرتے ہیں۔اگر چہ وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک مضبوط جماعت قائم ہے جو نہایت مخلص احباب پر تشتمل ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود کے اس الہام کے پیش نظر يَدْعُونَ لَكَ ابْدَالُ الشَّامِ وَعِباد الله من العرب۔وہاں جماعت اور زیادہ ترقی کرے۔اس لئے میں نے شاہ صاحب کو ایک مرتبہ پھر وہاں بھیجنے کا فیصلہ کیا۔گو آب شاہ صاحب کی عمر بڑی ہے اور یکی بھی بیمار ہوں لیکن میں نے سوچا کہ انسانوں کا کام تو چلتا ہی رہتا ہے۔خدا اور اس کے دین کا کام بہر حال متقدم رہنا چاہیئے۔چنانچہ میرے کہنے پہ اس جذبہ کے ماتحت شاہ صاحب تیار ہو گئے حضرت بہر مسیح موعود کے اس الہام میں اہل شام کا ایک بہت بڑا مقصد بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی دعاؤں کے ساتھ احمدیت کو ترقی دینی ہے۔پس یہ ضروری ہے کہ دُعاؤں اور قربانیوں کا یہ سلسلہ اور بڑھے اور وسیع ہوتا اس کے بڑھنے کے ساتھ دنیا میں احمدیت کی ترقی اور اسلام کے غلیہ کے سامان پیدا ہوں۔اگر وہاں خاطر خواہ کامیابی نصیب ہو جائے تو اس کا نفسیاتی طور پر یہاں بھی خوشگوار ے مکتوب 4 اپریل ۱۸۸۵ء مشموله مکتوبات احمدیہ جلد را منه۔دمرتبه حضرت شیخ یعقوب علی صاحب ترآب ایڈیٹر الحکم ۲۹ دسمبرشت شده )