تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 153
۱۵۳ اس سے پہلے مختلف مذاہب موجود تھے گویا دنیا کی مختلف کھیتیاں مختلف مالکھوں میں تقسیم ہو چکی تھیں۔اور سوائے عرب کے کوئی خالی زمین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پانی نہیں تی مگر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حکم دیا کہ جَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا۔قرآن کریم کو ہاتھ میں لے کہ قرآنی دلائل کے ساتھ اپنے مخاطبین سے جہاد کرو۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے اس پر عمل کیا۔کسی دشمن پر خود حملہ نہیں کیا۔بلکہ اگھر اُس نے حملہ کیا اور آپ اس کے دفاع کے لئے پہونچے تو بھی پو پھٹنے سے پہلے کبھی اس پر حملہ نہیں کیا تا کہ وہ ہوشیار ہو جائے اور جنگ کے لئے تیار ہو جائے اور جب ایسی دفاعی جنگوں سے بھی آپ واپس آئے تو آپ نے فرمایا رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الاكبر - ہم چھوٹے جہاد سے واپس آئے ہیں اور اب بڑے جہاد کے لئے فارغ ہوئے ہیں یعنی تبلیغ کے لئے پھر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِنْ أَحَد مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَاجِرُهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلامَ اللَّهِ ثُمَّ ابْلِغُهُ مَا مَنَ یعنی تم کو جب خدا تعالیٰ علیہ بھی دے تب بھی تبلیغ سے غافل نہ ہوتا بلکہ اسلام کی تبلیغ لوگوں کے کانوں میں ڈالتے رہنا اور جہاں تم غالب اور زیادہ ہو وہاں ان لوگوں کے لئے امن پیدا کرنا تاکہ وہاں آکر اسلام کی تعلیم مشن اور سیکھ سکیں اور جب وہ واپس اپنے وطن جانا چا ہیں تو آرام سے اُن کو وطن پہنچا دو۔آپ لوگ آپ ایسے حالات میں سے گذر رہتے ہیں کہ منکرین اسلام زیادہ ہیں اور آپ کم ہیں۔پس آپ کا فرض تبلیغ تو اور بھی بڑھ جاتا ہے۔اگر آپ لوگ اچھا نمونہ دکھائیں اور اسلام کی تبلیغ کا جوش جنون کی حد تک بڑھا دیں تو اسلام کی اعلی تعلیم آج بھی دلوں کو موہ لے گی اور آپ کے خیر خواہ اور آپ کے محب کثرت سے پیدا ہو جائیں گے مگر ضرورت یہ ہے کہ اسلام کو معفول صورت میں اُن کے سامنے پیش کیا جائے۔ایسی تمام باتیں جو قرآن کے خلاف ہیں اور غیر مسلموں کو اسلام سے ناراض کرنے والی ہیں قرآن کی روشنی میں اُن کا ازالہ کیا جائے اور رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کے حسین سلوک سے اس کا دفاع کیا جائے۔پھر دیکھو کہ لوگ فوراً اسلام کی طرف مائل ہونا شروع ہو جائیں گے۔اور آپ کا وطن حقیقی معنوں میں آپ کا تو به ع