تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 122 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 122

کرو اور ان طوفانوں سے مایوس نہ ہو بلکہ پہلوانوں کی طرح کام میں لگ جاؤ اور جہاں جہاں پانی خشک ہوتا ہے۔وہاں فورا کھیتوں میں ہل چلا دو تا تمہاری آئندہ آمد نہیں پہلے سے بھی بڑھ جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ چندے بھی بڑھ جائیں۔جب مرکز مضبوط ہوگا اور بیرونی مبلغین کو بھی خدا تعالیٰ اس بات کی توفیق دے دیگا کہ وہ نو مسلموں سے چندے میں تو سلسلہ تبلیغ وسیع ہو جائے گا جب بھی دنیا میں کوئی مذہبی تحریک چلی ہے۔اس کے ابتدائی مبلغ اسی ملک کے ہوتے تھے جس میں وہ تحریک ابتداء مشروع ہوتی ہے۔چنانچہ اسلام کے پہلے مبلغ معرب ہی تھے۔لیکن اس کے بعد ایرانی اور عراقی آگئے اور انہوں نے اسلام کی اشاعت شروع کی۔حضرت معین الدین صاحب بہشتی۔شہاب الدین صاحب سهروردی ، بہاؤ الدین صاب نقشبندی سب دوسرے ممالک کے تھے جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں اسلام کی بڑی خدمت کی۔حضرت علی علیہ السلام کے بعد بھی پچاس ساٹھ سال تک میسائیت کو پھیلانے والے ان کے اپنے علاقے کے ہی مبلغ تھے۔لیکن بعد میں اور علاقوں میں بھی مبلغ پیدا ہو گئے اور آپ کے سو سال کے بعد تو سارے مبلغ اٹلی کے ہی تھے۔پھر حہ منی اور انگلینڈ سے بھی کئی مبلغین اشاعت عیسائیت کے لئے آگے آگئے پس جب تک مبلغین تو مسلموں کو چندہ دینے کی عادت نہیں ڈالیں گے۔یہ کام لیے عرصہ تک نہیں چل سکتا " سے وقف زندگی کی پُر جوش تحریک سید نا حضرت مصلح موعود کو اپنے دوسرے سفر یورپ کے دوران یہ دیکھ کہ بہت خوشی ہوئی کہ مغربی دنیا نہایت تیزی سے اسلام کی طرف مائل ہو رہی ہے اور آپ اس نتیجے پر پہنچے کہ وقت آگیا ہے کہ وقف زندگی کی تحریک کو پہلے سے زیادہ منظم، موثر اور دائمی شکل دی جائے کیونکہ جب تک جماعت احمدیہ میں دین کی نصرت کرنے والے مسلسل اور متواتر پیدا نہ ہوں علیہ السلام کے اہم مقصد کی تکمیل ہرگزہ ممکن نہیں۔یہی وجہ ہے کہ حضور نے سفر یورپ سے واپسی کے بعد کہ اچی اور ربوہ میں جو ابتدائی خطبات ارشاد فرمائے۔ان میں بار بار وقف زندگی کی پر جوش تحریک فرمائی۔چنانچہ 14 ستمبر یو کے خطبہ جمعہ میں فرمایا : " جب تک جماعت میں وقف کی تحریک مضبوط نہ ہو اس وقت تک ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنا نا ممکن ہے۔اس کے لئے اول تو جماعت کے ہر فرد کے دل میں یہ احساس پیدا ہونا چاہیے کہ میں نے ایک سے دو بننا ے روز نامہ الفضل ریوه ۲۵ نومبر ۱۹۵۵ ماده روزنامه /