تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 121 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 121

لیتا۔چوہدری صاحب نے کہا کہ میں نے اس سے کہا ہے کہ میں تو ان نو مسلموں کو اسی وقت احمدی سمجھوں گا جب وہ با قاعدہ چندہ دیں گے۔لیکن وہ ہر دفعہ یہ عذر کر دیتا ہے کہ یہ لوگ مالی لحاظ سے کمزور ہیں اور چندہ دینے کے قابل نہیں۔میرے نزدیک چو ہدری صاحب کی بات بالکل درست ہے۔ہمارے مبلغین کو نو مسلموں سے چندہ لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔میں نے جرمنوں کو دیکھا ہے کہ وہ چندے دیتے ہیں ایک شخص میری آمد کے متعلق خبر پا کر دو سو میل سے چل کر مجھے ملنے آیا۔چوہدری عبید اللطیف صاحب مبلغ جرمنی نے مجھے بتایا کہ وہ جب سے احمدی ہوا ہے اڑھائی پونڈ ماہوار باقاعدہ چندہ دیتا ہے۔پس اگر ہمارے سیلفین توسلون کو چندہ دینے کی عادت ڈالیں گے تو انہیں عادت پڑ جائے گی چاہے ابتدا میں وہ ایک ایک آنہ ہی چندہ کیوں نہ دیں۔اگر وہ ایک ایک آنہ بھی چندہ دینا شروع کر دیں گے تو آہستہ آہستہ انہیں اس کی عادت پڑ جائے گی اور پھر زیادہ مقدار میں چندہ دینا انہیں دو پھر معلوم نہیں ہوگا۔حضرت مسیح موعود کے اشتہارات اور کتا نہیں نکال کر دیکھ لو تمہیں ان میں یہ الفاظ دکھائی دیں گے کہ فلاں دوست بڑے مخلص ہیں انہوں نے ایک انه یا دو آنہ ما ہوار چندہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔لیکن پھر وہی لوگ بڑی بڑی مقدار میں چندہ دینے لگ گئے تھے۔ہمارے مبلغین کو بھی چاہئیے کہ وہ بھی نو مسلموں سے چندہ لینے کی کوشش کہ میں مشرقی افریقہ اور دشتی والے احمدیوں کی حالت نسبتا اچھی ہے۔مشق کی جماعت بڑے اخلاص اور تہمت سے کام کر رہی ہے۔پھر جماعتوں کو چاہیئے کہ وہ نوجوانوں کو یہاں بھجوائیں جو یہاں کہ کہ تعلیم حاصل کریں اور مرکزی اداروں میں کام کریں۔دیکھ لو بیماری سے پہلے مجھ میں کس قدر تہمت ہوا کرتی تھی نہیں اکیلا دس آدمیوں سے بھی زیادہ کام کر سکتا تھا لیکن اب ایک آدمی کے چوتھائی کام کے برابر بھی نہیں کہ سکتا۔اس طرح یہ ناظر بھی انسات ہی ہیں۔ان کو بھی بیماری لگ سکتی ہے اور کام کے ناقابل ہو سکتے ہیں۔پس با ہر سے نوجوانوں کو یہاں آنے کی کوشش کر نی چاہئیے ، بلہ بہتر ہو گا کہ مختلف ممالک کے لوگ یہاں آئیں اور انجمن کا کام سنبھالیں تا کہ ہماری مرکز می رانجمن) انٹرنیشنل انجمن بن جائے صرف پاکستانی نہ رہے۔دینی لحاظ سے بے شک پاکستان کے لوگ دوسروں پر فوقیت رکھتے ہیں۔لیکن اگر ان کے ساتھ ایک ایک ممبر نائیجریا ، گولڈ کوسٹ ، امریکہ مشرقی افریقہ الینڈ، جرمنی اور انگلینڈ وغیرہ ممالک کا بھی ہو تو کام زیادہ بہتر رنگ میں چل سکتا ہے۔جب یہ لوگ یہاں آکر کام کریں گے تو باہر کی جماعتوں کو اس طرف زیادہ توجہ ہوگی اور وہ سمجھیں گے کہ مرکزہ میں جو انجمن کام کر رہی ہے وہ صرف پاکستان کی جماعتوں کی انجمن نہیں بلکہ ہماری بھی انجمن ہے۔پس چندوں کو زیادہ