تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 119
114 تھے اور ربوہ میں بھی آپ نے بچشم خود دیکھا کہ پاکستان میں بھی آپ کے بھائی ہیں جو آپ کے جذبات کا احساس کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تمام احمدی برابر ہیں۔اور یہ کہ آپ نے پاکستانیوں اور افریقنوں میں کوئی الگ رنگ نہیں دیکھا۔پاکستانی اپنے افریقین بھائیوں کو اپنے عزیز و اقارب کی طرح دیکھتے ہیں۔یمیں افریقنوں سے بھی اسی قربانی کی توقع کرتا ہوں اور آپ سے کہتا ہوں کہ آپ تبلیغ کریں اور به نام اسلام افریقہ کے کونے کونے تک پہنچا دیں۔ریوه ہمیشہ آپ کا انتظار کرے گا کہ آپ گولڈ کوسٹ کے ہر فرد کو احمدیت کی آغوش میں نے آئیں جو حقیقی اسلام اور خدا کا دین ہے۔نہ اماء الله مرکزیہ اور لجنہ ربوہ نے 4 اکتوبر ۹۵اء خواتین مبارکہ کے اعزانہ میں عصرانہ اضاء ه کو دفتر مجنہ اماء الله مرکزے یہ میں خاندان حضرت مسیح موعود کی اُن خواتین مبارکہ کے اعزازہ میں ایک عصرانہ دیا جنہیں سفر یورپ میں حضور کی معیت کا شرف حاصل ہوا۔اس سفر میں حضور کے ہمراہ حضور کے چاروں حرم حضرت سیّدہ ام ناصر صاحبہ حضرت سید اتم وسیم صاحبہ ، حضرت ام منتدین سیده مریم صدیقہ صاحبہ اور حضرت سیدہ مہر آیا صاحبہ نیز محترمہ بیگم صاحبہ صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب اور صاحبزاد کی امتہ الباسط صاحبہ بھی تھیں یکم شہید واد و احمد صاحب اور ان کی اہلیہ امتہ الباسط صاحبہ کا قیام قریبا ڈیڑھ سال تک لنڈن میں رہا۔تقریب حضرات میں بند اما والد مرکزیہ کی تمام ممبرات، حلقہ جات کی عہدیداران اور لجنہ کی پانی کاراسات قریباً ایک سو کی تعداد میں شامل ہوئیں۔اس تقریب کا انتظام صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ اور کرم مرطیہ صدیقی صاحبہ بیگم نواب مسعود احمد خان صاحب کی نگرانی میں ہوا۔اس موقع پر محترمہ امتہ الرشید شوکت صاحبہ المیہ محترم ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ احمدیہ نے لجنہ اماءاللہ مرکزیہ اور لجنہ اماءاللہ یہ یوں کی نمائندگی کرتے ہوئے جو ایڈریس پیش کیا اس میں بتایا کہ حضور کے آرام و آسائش کا خیال رکھنا ہم سب کا مشترکہ فرض ہے لیکن دوسری تمام مشترکہ ذمہ داریوں کی طرح یہ ذمہ داری بھی نمائندگی کے ذریعہ پوری کی جا سکتی ہے۔اس لحاظ سے آپ گویا ہماری نمائندہ تھیں اور اس کامیاب نمائندگی پر ہم آپ کے تہ دل سے مشکور ہیں اور آج آپ کی خدمت میں دلی مبارک باد پیش کرنے کے لئے یہاں حاضر ہوئی ہیں۔ہم دعا کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس