تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 71
بھرا ہو کہ ہم کو خود بھی نظر آجائے کہ خدا تعالیٰ ہماری تائید میں اپنے نشانات ظاہر کرتا ہے جب یہ مقام کسی شخص کو حاصل ہو جائے تو وہ ہر قسم کے شکوک وشبہات سے بالا ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ کے روشن نشانات اس کی تائید میں ظاہر ہونے لگتے ہیں اور وہ اس یقین سے برینی ہو جاتا ہے کہ خدا اسے ضائع نہیں کرے گا کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے نشانات کو دیکھ رہا ہوتا ہے وہ اس کے حسن سلوک اور انعامات کا مشاہدہ کر رہا ہوتا ہے اور وہ اس یقین پر مضبوطی سے قائم ہوتا ہے کہ دنیا اسے چھوڑ دے مگر خدا اسے نہیں چھوڑے گا۔نادان اس کو نہیں سمجھ سکتا مگر وہ جس نے خدا تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہو۔وہ ایسی مضبوط چٹان پر قائم ہوتا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اُس کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی۔۔۔۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ مومن عبادت کرتے وقت یہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے اسکے یہ معنی نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کو ایک مثبت سمجھتا ہے اور اس کا تصور اپنے ذہن میں لانے کی کوشش کرتا ہے بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ اسے اپنی آنکھوں سے دکھائی دیتا ہے کہ خدا اس کی تائید میں اپنے نشانات ظاہر کر رہا ہے۔خدا اس کی تائید کرنے والوں کی تائید کرتا ہے۔خدا اس کی مخالفت کرنے والوں کی مخالفت کرتا ہے۔خدا اس کے دشمنوں کو ہلاک کرتا اور اس کے دوستوں کو ترقی دیتا ہے اور یہی مقام ہے جو ہر مومن کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہرگز مراد نہیں کہ تم نماز میں خدا تعالیٰ کی تصویر بنانے کی کوشش کر و اور اس کا جھوٹا تصور اپنے ذہن میں لاؤ۔اسلام مومن کے دل میں کوئی جھوٹا تصور پیدا نہیں کرتا بلکہ وہ عملاً ایسے ایسے مقام پر پہنچا تا ہے کہ صفات الہیہ کا ظہور اس کے لئے شروع ہو جاتا ہے اور خدا اس کے لئے زمین و آسمان میں بڑے بڑے نشانات دکھانا شروع کر دیتا ہے اور خود اسے بھی وہ روحانی آنکھیں میسر آجاتی ہیں جن سے وہ خدا تعالیٰ کے چمکتے ہوئے ہاتھ کا مشاہدہ کر لیتا ہے اور جب یہ مقام کسی مومن کو حاصل ہو جاتا ہے تو پھر دنیا اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ساری دنیا بھی اگر اس کے خلاف کوشش کرے تو وہ ناکام رہتی ہے کیونکہ خدا اس کی پشت پر ہوتا ہے اور جس کی تائید میں خدا ہو دُنیا اس کا مقابلہ کرنے کی طاقت