تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 70
YA "قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ الصَّلوة تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ العنكبوت نمازہ انسان کو فحش اور نا پسندیدہ باتوں سے روکتی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ادنیٰ سے ادنی درجہ کی نماز یہ ہے کہ تو سمجھے کہ خدا تجھے دیکھ رہا ہے اور اعلیٰ درجہ کی نماز یہ ہے کہ تو یہ سمجھے کہ تو اپنی آنکھوں سے خدا کو دیکھ رہا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف نماز اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں۔نماز کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ عملی زندگی میں وہ انسان کو نشاء و مشکر سے روکے۔گویا اصل مقصود یہ ہوا کہ انسان فحشاء و منکر سے رُکے اور روحانی لحاظ سے نماز کی غرض یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے سامنے آجائے اور وہ یہ سمجھے کہ وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔۔۔۔پس نماز کا اعلیٰ مقام یہ ہے کہ انسان جب نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہو تو اسے یہ یقین کامل ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ جیسے ہند و کہتے ہیں کہ انسان عبادت کے وقت یہ سوچنا شروع کر دے کہ ایک بت جو اس کے سامنے ہے وہ خدا ہے اسی طرح وہ مسلمان بھی سوچنا شروع کر دے کیونکہ اسلام وہم نہیں سکھاتا۔اسلام کوئی جھوٹا تصور انسانی ذہن میں پیدا نہیں کرتا۔اسلام یہ کھاتا ہے کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو تمہیں اس امر کی کامل معرفت حاصل ہو کہ تم سے نیک سلوک کرنے والے سے خدا تعالیٰ نیک سلوک کرتا ہے اور تم سے بُرا سلوک کرنے والے سے خدا تعالیٰ بُرا سلوک کرتا ہے۔اگر تم کو بھی یہ نظر آجائے اور تم کو بھی یہ محسوس ہونے لگ جائے کہ جس نے تمہارے ساتھ نیک سلوک کیا تھا اس کے ساتھ خدا تعالیٰ نے نیک سلوک کیا اور جس نے تمہارے ساتھ برا سلوک کیا تھا اس کے ساتھ خدا تعالیٰ نے بُرا سلوک کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری محبت الہی کامل ہو جائے گی اور تمہاری نماز اپنی ذات میں مکمل ہو جائے گی۔غرض اسلام و اہمہ کی تعلیم نہیں دیتا اسلام ہمیں یقین اور معرفت کے مقام پر پہنچانا چاہتا ہے۔اسلام ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی نمازوں کو اس طرح سنوار کہ ادا کریں اور انہیں اتنا اچھا اور اعلیٰ درجہ کا بنائیں کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ ہم سے اتنا تعلق رکھے کہ ہمارے ساتھ حسن سلوک کرنے والے سے وہ حسن سلوک کرے اور ہمارے ساتھ برا سلوک کرنے والے سے وہ برا سلوک کرے اور دوسری طرف ہماری اپنی آنکھیں اتنی روشن ہوں اور ہمارے دل میں اتنا نور