تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 72
نہیں رکھتی ہے حضرت خلیفہ اسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ عنہ کراچی میں اہم تقاریب اور حضرت نے ایم کراچی کے دوران متعد د اہم اور یادگار المصلح الموعود کے پر معارف خطابات تقاریب میں شرکت فرمائی اور اپنے قیمتی خیالات سے نوازا۔پہلی تقریب - ۲۴ ظہور / اگست کو مجلس خدام الاحمدیہ کراچی کا ایک غیر معمولی اجلاس احمدیہ ہال میں منعقد ہوا جس میں خدام و اطفال کے علاوہ صحابہ کرام اور دوسرے بزرگان سلسلہ شامل ہوئے۔تلاوت و نظم اور عہد کے بعد قائد مجلس کراچی مرزا عبد الرحیم بیگ صاحب نے مجلس کی رپورٹ پیش کی جس کے بعد حضور نے نوجوانان احمدیت سے ایک پر معارف خطاب فرمایا جس کا خلاصہ رپورٹر صاحب المصلح کراچی کے الفاظ میں درج ذیل کیا جاتا ہے :- ور ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں زندگی کے ساتھ ساتھ موت کا سلسلہ بھی قائم کیا ہوا ہے۔لوگ پیدا ہوتے ہیں اور ایک عرصہ تک زندگی گزارنے کے بعد مر جاتے ہیں۔موت سے جو ایک خلاء پیدا ہو جاتا ہے اسے پورا کرنا نوجوانوں کا کام ہے۔اگر نوجوانوں کی حالت پہلے لوگوں کی مانند ہو یا ان سے بہتر ہو تو قوم تنزل سے محفوظ رہتے ہوئے ترقی کے راستے پر بدستور گامزن رہتی ہے لیکن اگر نوجوان ہی قومی کردار کے اعتبار کے معیار پر پورے نہ اُترتے ہوں تو پھر قوم کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔سو قوم کی آئندہ ترقی کا دار و مدار نوجوانوں پر ہوتا ہے۔جس فوج کا ہر سپا ہی سمجھ لے کہ شاید آگے چل کر میں ہی کمانڈر انچیف بن جاؤں تو وہ یقیناً اس احساس کے تحت اپنے عمل و کردار کو ایسے طریق پر ڈھالے گا جو بالآخر اسے اس عہدے کا اہل بنا دے یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس فوج کے تمام سپاہیوں میں کمانڈر انچیف بننے کی اہمیت پیدا ہو جائے گی لیکن اگر فوج کا ہر سپاہی یہ سمجھ بیٹھے کہ یکی تو کمانڈر انچیف نہیں بن سکتا تو وہ فوج گرتے گرتے اس حالت که روزنامه المصلح کراچی مورخه ۲۶ اخا ۱۳۳۲ اش ۲۶ اکتوبر ۶۱۹۵۳ هتاه و سے مکمل رپورٹ روزنامه المصلح کراچی مورخه ۲۷ ستمبر ۱۹۵۳ / ۲۷ تبوک ۳۳۲ ایش مشت میں شائع شدہ ہے ، •