تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 66
۶۴ کے سو میں سے ننانوے نماز نہیں پڑھتے، وہ صرف اتنا دیکھتے ہیں کہ یہ اپنے آپ کو ایک خدائی جماعت کی طرف منسوب کرتا ہے اور پھر نماز نہیں پڑھتا گویا اس ایک کا فعل ساری جماعت کو بدنام کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے کام میں حصہ لینے والوں اور خدائی جماعتوں میں شامل ہونے والوں پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہیں اور دیکھتے رہیں کہ انہوں نے کوئی ایسا قدم تو نہیں اُٹھایا جو خدا اور اس کے رسول کو بد نام کرنے والا ہو۔پھر خدا تعالیٰ سے دعا بھی کرنی چاہیے کہ وہ اپنی حفاظت شامل حال رکھے۔انسانی عقل چونکہ کمزور ہے اس لئے زندگی میں وہ کئی دفعہ غلطی بھی کر بیٹھتا ہے مگر اس کی بدنامی بعض دفعہ سو سو سال تک چلتی چلی جاتی ہے اس کا علاج صرف دعا ہے یا لہ ناصر آباد، احمد آباد اور محمد آباد کے خطبات جمعہ کا تذکرہ کرنے کے بعد اب کراچی کے خطبات ، تقاریر اور دوسری بعض تقاریب کے کوائف درج کئے جاتے ہیں۔قیام کراچی کے دوران سید نا حضرت المصلح الموعود نے خطبہ عید الاضحیہ کے علاوہ خطبات کراچی دو خطبات جمعہ ارشاد فرمائے۔۱ خطبہ عید الاضحیه (مورخه ۲۱ ظهور/ اگست ) اس خطبہ میں حضرت امام مہمام نے نہایت لطیف پیرائے میں ملت اسلامیہ کو ایک عظیم سبق کی طرف توجہ دلائی۔آپ نے فرمایا : رشتوں کی محبت بے شک جاہل لوگوں اور نادان لوگوں میں زیادہ ہوتی ہے لیکن انسانیت کا مقام اس محبت سے انسان کو اُونچائے جاتا ہے جتنا نیچے چلے جاؤ محبت کا ذریعہ مادیت ہوتی ہے لیکن جتنا او پر پہلے جاؤ محبت کا ذریعہ روحانیت ہوتی ہے۔جتنا جتنا انسان جانورں میں شامل ہوگا اتنی ہی اس میں مادیت والی محبت اور بھائیوں اور رشتہ داروں کی محبت زیادہ ہوگی اور جتنا جتنا وہ اُونچا ہوگا اتنی ہی اس کی محبت بھی بلند تر ہوتی چلی جائے گی۔پہلے وہ اپنی اولاد سے زیادہ محبت رکھے گا پھر اور اُونچا ہو گا تو اپنے خاندان سے محبت رکھے گا۔ه روز نامها المصلح کراچی مورخه ۲۶ تبوک ۱۳۳۲اهش ۲۶ ستمبر ۶۱۹۵۳ ص۴۱۲