تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 67 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 67

۶۵۔۔۔۔اور اونچا ہو گا تو اپنے وطن سے محبت کرنے لگ جائے گا اور اُونچا ہو گا تو اپنی قوم سے محبت کرنے لگ جائے گا اور اُونچا ہو گا تو انسانیت سے محبت کرنے لگ جائے گا اور اونچا ہو گا تو دین الہی سے محبت کرنے لگ جائے گا اور اُونچا ہو گا تو فرشتوں سے تعلق رکھنے لگ جائے گا اور اُونچا ہو گا تو اس کا خدا سے تعلق ہو جائے گا مگر خدائی تعلیق کا پہلا زمینہ خدا تعالیٰ کے نبیوں سے تعلق پیدا کرنا ہے۔جس طرح تمہارے لئے یہ ناممکن ہے کہ تم چھلانگ لگا کر چھت پر چڑھ سکو اس طرح تمہارے لئے یہ ناممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف راہنمائی کرنے والے وجودوں کو چھوڑ کر تم خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر سکو میگر جس طرح کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ چھت پر بیٹھا ہوا انسان جب دیکھتا ہے کہ کسی پر شیریا ڈاکو نے حملہ کر دیا ہے تو وہ رہتی کہ اگر اس کو اوپر کھینچ لیتا ہے اسی طرح کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ جب دیکھتا ہے کہ کوئی شخص اس سے ملنے کی سچی تڑپ رکھتا ہے لیکن وہ ایسے ماحول میں ہے کہ اسے انبیاء کی یہ اہنمائی میتر نہیں آسکتی تو وہ خود اس کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے مگر ایسا بہت شاذ ہوتا ہے اور شاذ پر کسی قانون کی بنیاد نہیں کھی جا سکتی۔عام قانون یہی ہے کہ جو لوگ خدا نما وجود ہوتے ہیں انہی کے ذریعہ انسان کو روحانی ترقی ملتی ہے اور اس ترقی کے حصول کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ انسان دنیوی محبتوں کو سرد کر کے ان کی محبت کو اپنے اوپر غالب کرے۔جب وہ ان کی محبت کو غالب کر لیتا ہے تو ان کا نمونہ اختیار کرنا اس کے لئے آسان ہو جاتا ہے۔اس وقت وہ یہ نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی غیر ہے جس کی میں اقتداء کر رہا ہوں بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ میرا باپ ہے اور اس کا خون میری رگوں میں دوڑ رہا ہے۔یہی سبق اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ محمد میں سکھایا گیا ہے اور پھر آگے ابراہیم اور آل ابراہیم کا ذکر کر کے بتایا گیا ہے کہ جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ لیہ وسلم کی اولاد میں شامل ہو جاتا ہے وہ ابراہیم کی اولاد میں بھی شامل ہو جاتا ہے پھر جو کام اسمعیل نے کیا وہی کام وہ خود بھی کرنے لگ جاتا ہے اس لئے نہیں کہ اگر اسمعیل نے یہ قربانی پیش کر دی تھی تو یکیں کیوں نہیں کر سکتا بلکہ اس لئے کہ وہی خون جو اسمعیل کی رگوں میں دوڑ رہا تھا میری رگوں میں بھی دوڑ رہا ہے اور یکی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا