تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 65
۶۳ نمونہ دکھانے والے لوگ بھی گزرے ہیں جنہوں نے خود تکلیفیں اُٹھا کر معاہدات کی پابندی کی اور دشمن کے ہر قسم کے مظالم کے باوجود اُن سے حسن سلوک کیا لیکن ان کی نیکیاں بھی ان بے ایمانوں کی وجہ سے ٹھپ گئیں، جو کچھ ابو بکر نے کیا، جو کچھ عر نے کیا، جو کچھ عثمان نے کیا، جو کچھ علی نے کیا اور جوکچھ بنو امیہ کے کئی بادشاہوں نے کیا اور بنو عباس کے کئی بادشاہوں نے کیا بلکہ اُن کے بعد بھی مختلف ملکوں کے مسلمان بادشاہوں نے کیا وہ ان کے اخلاق اور حسن کردار کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔انہوں نے اپنے دشمن سے جو سلوک کیا۔آدم سے لے کر آج تک کسی بادشاہ کے متعلق یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ اُس نے ایسا اعلیٰ نمونہ دکھایا ہو لیکن ان کی نیکیاں بھی چھپ گئیں کیونکہ بعض بے ایمانوں نے خدا کے نام پر لڑائیاں کیں اور جہاد کے نام پر فساد کئے اور خدا کے نام پر لوگوں کی گردنیں اُڑانا جائزہ قرار دے دیا۔اگر وہ یہ کہ کر لوگوں کی گردنیں اڑاتے کہ ہمارا دل چاہتا ہے کہ گردنیں اڑائیں تو یہ زیادہ بہتر ہوتا۔آخر ہندوؤں نے لوگوں کی گردنیں اڑائی ہیں یا نہیں عیسائیوں نے گردنیں اڑائی ہیں یا نہیں لیکن باوجود اس کے کہ عیسائیوں نے بہت زیادہ ظلم کئے ہیں بلکہ یکی سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں نے تیرہ سو سال میں اتنا ظلم نہیں کیا جتناعیسائیوں نے صرف ایک صدی میں کیا ہے پھر بھی عیسائیت بدنام نہیں ہوئی کیونکہ عیسائی یہ کہا کرتے تھے کہ ہماری طبیعت چاہتی ہے کہ ہم ایسا کریں اور مسلمان یہ کہا کرتے تھے کہ ہم خدا اور اس کے رسول کے حکم کے ماتحت ایسا کرتے ہیں نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائی نہایہ، بدنام نہ ہوا کیونکہ لوگوں نے کہا یہ ان کا ذاتی فعل تھا لیکن خدا اور اُس کا رسول بہ نام ہو گئے۔غرمق خدا کے کام میں اگر غلطی ہو جائے تو زیادہ بدنامی کا موجب ہوتی ہے اسی طرح خدا کی جماعت میں شامل ہو کہ اگر کوئی غلطی کی جائے تو وہ غلطی بھی زیادہ بدنامی کا موجب ہوتی ہے۔غیر احمدی سو میں سے ننانو سے نماز نہیں پڑھتا اور سب مسلمان اس کو برداشت کرتے ہیں لیکن اگر ایک احمدی بھی نماز نہیں پڑھتا تو سب لوگ کہنے لگ جاتے ہیں کہ تم میں اور ہم میں فرق کیا ہے۔اگر ہم نماز نہیں پڑھتے تو فلاں احمدی بھی نماز نہیں پڑھتا۔وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہمارا اسو میں سے ایک نماز نہیں پڑھتا اور غیراحمدیوں