تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 64 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 64

۶۲ مقام ایسا ہو جو اس آگ کی بارش سے محفوظ ہو اور اس وقت کوئی عورت اپنے بچہ کو لے کر آجائے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ دنیا کی کوئی حکومت اور دنیا کی کوئی طاقت اس عورت کو وہاں آنے سے روک سکتی ہے۔نہ حکومتیں اسے روک سکتی ہیں نہ فوجیں اسے روک سکتی ہیں نہ پولیس اسے روک سکتی ہے کیونکہ وہ بجھتی ہے کہ میرا بچہ اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا جبتک یکن اس جگہ نہ جاؤں۔پس اپنے اندر وہ روح پیدا کرو جو پتے مومنوں میں ہونی چاہیئے۔تم دیکھو گے کہ خدا آپ ہی آپ ساری دنیا کو تمہارے قدموں میں سمیٹ کر لے آئے گا تب تمہاری کا میابی میں کوئی شبہ نہیں ہو گا اور تمہارے پاس آنے سے لوگوں کو روکنے والا سوائے حسرت اور خسر ان کے اور کچھ حاصل نہیں کر سکے گا ہائے د موریہ اور وفا ۱۳۳۲اہش / ۳۱ جولائی ۱۶۱۹۵۳ خطبه محمد آباد حضور نے اس پر حکمت خطبہ میں یہ زترین نصیحت فرمائی کہ خدائی جماعتوں کو ہمیشہ ہی اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے تا ان کے کسی اقدام سے خدا اور رسول بد نام نہ ہوں۔چنانچہ فرمایا:۔جو شخص خدا کے نام پر حرام خوری کرتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ خطرناک گناہ کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ اس میں صرف اس کی اپنی بد نامی ہی نہیں ہوتی بلکہ خدا اور اس کے رسول کی بھی بدنامی ہوتی ہے۔دنیا میں بڑے بڑے بادشاہ گزرے ہیں جنہوں نے لوگوں کو بار بار گر ان کی لاشوں کے ڈھیر لگا دیے تھے مگر ان کی وجہ سے ان کے مذہب کو کوئی بد نام نہیں کرتا لیکن بعض فیج اعوج کے مسلمان کہلانے والے بادشاہوں نے جہاد کے نام سے تلوار اُٹھائی تو ان کی وجہ سے اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آج تیک به نام کیا جا رہا ہے۔اب مارنے والا ہے ایمان کوئی اور انسان تھا مگر الزام ہمار سے آقا پر آ گیا۔اُس بے ایمان نے اپنے نفسانی جوش کی وجہ سے خونریزی کی مگر چونکہ اس نے دین کا نام لے کہ خونریزی کی اور کہا کہ یکی اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے ماتحت ایسا کہ رہا ہوں اس لئے اسلام بدنام ہو گیا حالانکہ اسلام میں ایسے اعلیٰ درجہ کا ل روزنامه المصلح" کراچی مورخه ۲۳ تبوک ۳۳۲اہش مطابق ۲۳ ستمبر ۱۹۵۳ء حث کالم اوم +