تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 628
۲۹ دے کر دروازے کے راستہ دوسرے گواہوں کی مدد سے انہیں اُن کی قیام گاہ پر پہنچا دیا میرا ڈاکٹری معائنہ کیا گیا۔جب میرے بائیں کان اور گردن کے ایک حصے پر چوٹ اور زخم لگا تو میں اپنے حملہ آور کو نہ دیکھ سکا۔X X N NiL R۔O۔AND A۔C M۔I۔C۔SEC: 30 VHANG CAMP LALIAN S۔A۔ON 12۔5۔1954 سرکاری گواہ نمبر 4 ولایت خان ابن ملک حسن خان ذات ریحان لعمر ۴۸ برس نائب آڈیٹر- تحریک جدید انجمن احمدیہ پاکستان بتاریخ ۱۰/۳/۱۹۵۴ میں ان بہت سے لوگوں میں شامل تھا، جو نماز عصر ادا کرنے کے لیے مسجد مبارک میں بیٹھے ہوئے تھے۔نماز (حضرت) مرزا بشیر الدین محمود احمد نے پڑھائی (میں) ان سے تین یا چارفٹ کے فاصلہ پر تھا۔ملزم عبدالحمید بھی جو کہ اس وقت عدالت میں موجود ہے اور جیسے کہ میں پہچانتا ہوں پہلی صف میں دوران نماز مجھ سے تین یا چار افراد کے فاصلہ پر کھڑا تھا۔وہ (حضرت مرزا صاحب کے پیچھے تھا۔نمازہ کے بعد جبکہ (حضرت) مرزا صاحب محراب والے راستہ سے مسجد سے جانا چاہتے تھے رتب ) ملزم نے جو کہ اس وقت ایک کمبل لپیٹے ہوئے تھا۔عدالت میں پیش کردہ 1-P چاقو نکال لیا اور یا علی" کا نعرہ لگا کر اُس نے عدالت میں پیش کردہ - چاتو کی مدد سے (حضرت ) مرزا بشیر الدین محمود احمد کی گردن پر ایک زخم لگایا۔(حضرت) مرزا صاحب آگے کی طرف گر گئے ، لیکن اقبال احمد۔p نے اُن کو سہارا دیا۔تب عزم نے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد و عدالت میں چنگیرد۔M P-I