تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 629
چاتو کی مدد سے مزید ایک ضرب لگانا چاہی، لیکن یہ ضرب اقبال احمد۔۔P کے کان پر لگی۔جو کہ اُس وقت (حضرت مرزا صاحب کو سنبھالے ہوئے تھا۔قبل اس کے کہ ملزم تیری P۔1۔کوشش کرتا۔گواہ غلام مرتضیٰ نے عزم کو کمر سے پکڑ لیا اور میں نے عدالت میں پیش کردہ۔چا تو ملزم کے ہاتھ سے چھین لیا۔عدالت میں پیش کردہ ۱۰۔P چاقو کا پھل ایک طرف کو مڑ گیا تھا۔دوسرے لوگ (حضرت) مرزا صاحب کو اُن کے گھرنے گئے ، ہم نے عزم کو گھیرے رکھا اور اُسے مسجد ہی میں رکھا۔تب گواہ غلام مرتضیٰ نے تحریری طور پر اس بات کی اطلاع لالیاں پولیس سٹیشن کو دی۔پولیس پہنچ گئی۔میں نے عدالت میں پیش کر دہ چا تو 1۔P پیش کر دیا۔پولیس نے عدالت میں پیش کردہ میمو۔P تیار کیا۔جو کہ درست ہے اور اس پر میرے دستخط ثبت ہیں۔تب اسے پولیس نے ایک سر بمہر پارسل میں بند کر دیا۔عدالت میں پیشیکرده ۴۔۱ اس وقت خون آلود تھا۔XX N Nil R۔O۔AND A۔C M۔I۔C SEC : 30 JHANG At Lalian 12۔5-1954, سرکاری گواہ نمبر ON SA عبدالحکیم الکی، ابن مولوی عبدالرحیم صاحب ذات بٹ لعمر ۲۱ سال طالب علم جامعتہ المبشر بن ریود تاریخ ۱۰/۳/۱۹۵۴ میں اُس نماز عصر میں شامل تھا۔جو (حضرت مرزا البشیر الدین محمود احمد نے پڑھائی۔میں پہلی صف میں تھا۔ملزم عبد الحمید نجیسے کہ میں پہچانتا ہوں۔میری بائیں طرف دوا ومیوں کے پرے کھڑا تھا۔نمازہ کے بعد گواہ اقبال احمد نے محراب میں حضرت مرزا صاحب کے لیے دروازہ کھولا۔ملتزم نے جو اس وقت ایک کمبل لپیٹے ہوئے تھا۔(حضرت)