تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 48 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 48

یہ حقہ لکھنے کے بعد دوسرے حصوں کی طرف توجہ دینا ہوگی۔۔تاریخ کی ترتیب و تدوین میں علاوہ دیگر ماخذوں کے لاہور کی پبلک لائبریری سے بھی فائدہ اُٹھایا جائے۔۔اس حصہ تاریخ میں نمایاں طور پر قیام و استحکام پاکستان کے سلسلہ میں جماعتی خدمات کو پیش کیا جائے۔بحوالہ پورا نقل کیا جائے اور جو مواد بھی مل سکے اس کو جمع کر دیا جائے استقبیل کے مورخ اس سے انتخاب کر کے اپنے زمانہ میں ان واقعات کی ترتیب دے سکیں۔تاریخ احمدیت کی تدوین کا دفتر ابتداء پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر کے کمرہ ملاقات میں قائم کیا گیا بعد ازاں جب خلافت لائبریری کے نئے کمرے تعمیر ہو گئے تو اسے لائبریری میں منتقل کر دیا گیا۔ی محکمہ چونکہ حضور کی تحریک خاص سے قائم ہوا تھا اس لئے حضور اس کی خاص طور پر نگرانی اور راہ نمائی فرماتے تھے۔حضور کی شروع ہی سے تاکیدی ہدایت تھی کہ اس شعبہ کی ہفتہ وار رپورٹ آنی چاہیے چنانچہ (حضور کی بیماری یا سفر یورپ کے دلوں کے سوا ) اس شعبہ کی کارگزاری با قاعدگی سے حضور کی خدمت میں پیشیں کی جاتی تھی حضور اسے ملاحظہ فرما کر بعض اوقات اپنے دستِ مبارک سے اور بعض اوقات زبانی ارشادات فرما دیتے حضور کے بعض احکام حضرت سیدہ ام متین صاحبہ حرم حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے قلم سے بھی لکھے ہوتے تھے۔۲۲ مئی ۱۹۵۵ء کو حضرت خلیفة المسیح الثانی المصلح الموعود زیورچ (سوئٹزر لینڈ میں تشریف فرما تھے اس روز حضور نے مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب یا جوه پرائیویٹ سیکریٹری کو مکرم مولوی محمد صدیق صاحب انچارج خلافت لائبریری ربوہ کے نام خط لکھوایا کہ ماشہ صاحب نے جتنا کام کر لیا کر لیا باقی دوست محمد صاحب شروع کر دیں بہر حال تاریخ سلسلہ ہم نے لکھنی ہے ۱۹۳۸ء سے پہلے لکھ لیں پچھلی بعد میں لکھ لی جائے گی ؟ حضور کا یہ ارشاد ۲۹ مئی ۱۹۵۵ء کو ربوہ میں موصول ہوا۔ازاں بعد ۶ر فروری ۱۹۵۶ء کو شعبہ تاریخ کی رپورٹ ملاحظہ کر کے ارشاد فرمایا :- یہ بتائیں چھپنے میں کیا دیر ہے؟ چھپنی جلد چاہیے تا کہ محفوظ ہو جائے پھر ابتدائی تاریخ کی تدوین شروع کر دیں میں نے پچھلے زمانہ کی تاریخ اس لئے سپرد کی تھی کہ کم از کم