تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 47
۴۵ چنانچہ مکرم مولوی محمد صدیق صاحب انچارج خلافت لائبریری ربوہ کی جانب سے المصلح ۱۶ جولائی ۱۹۵۳ء ص میں یہ اعلان بھی کر دیا گیا جس پر درج ذیل مقامات سے درخواستیں موصول ہوئیں :۔لاہور (۲ عدد ) ، شیخوپورہ (۲ عدد)، کراچی (ایک عدد)، لطیف نگر اسٹیٹ ضلع تھرپارکر سندھ (ایک عدد)۔حضرت مصلح موعود کی خدمت بابرکت میں جب یہ سب درخواستیں منع کو ائف پیش کی گئیں تو حضور نے فیصلہ صادر فرمایا کہ درخواستوں پر کسی کارروائی کی ضرورت نہیں ان میں سے سر دوست کوئی پورا نہیں اترتا" چونکہ حضور تاریخ سلسلہ کے مدون کئے جانے کا عزم تمیم کر چکے تھے اس لئے آپ نے حضرت مرز البشیر احمد صاحب کے ابتدائی مراسلہ کے قریباً سوا ماہ کے بعد مکرم ماشہ فضل حسین صاحب کو تاریخ احمدیت کا مواد اکٹھا کرنے کے لئے نامزد فرمایا اور ان کا تقرر خلافت لائبریری میں ہوا۔آنے ۳۰ اپریل ۱۹۵۳ء سے لے کر ۲۰ مئی ۱۹۵۵ء تک یہ خدمت انجام دی۔حضور رضی اللہ عنہ نے فسادات ۱۹۵۳ء کے واقعات کو جمع کرنے میں اولیت دینے کی ہدایت فرمائی۔چنانچہ حضور کے ارشاد کی تعمیل میں انہوں نے علاوہ اخبارات و رسائل کا مطالعہ کرنے کے منٹر ی ہے (ساہیوال) سے لے کر راولپنڈی تک کا دورہ کیا اور بہت سی چشم دید شہادتیں جمع کر کے ان کو مرتب کیا نیز " فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء کا پس منظر کے عنوان سے ایک کتا بچہ بھی لکھا۔محترم معاشرہ فضل حسین صاحب کو مقرر ہوئے چند ہفتے ہی گزرے تھے کہ ۲۴ جون ۱۹۵۳ء کو دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کی طرف سے راقم الحروف (دوست محمد شاہد ) کو اطلاع ملی کہ حضرت اقدس نے اس عاجز کو یاد فرمایا ہے چنانچہ اگلے دن حضور نے شرف باریابی بخشا اور تاریخ احمدیت کی تدوین سے متعلق بنیادی ہدایات ارشاد فرمائیں جن کا خلاصہ یہ تھا کہ :- ا - فی الحال ستمبر ۱۹۴۶ء سے اگست ۱۹۵۲ء تک کی تاریخ لکھنے کا کام آپ کے سپرد کیا جاتا ہے۔نے اس سفر میں آپ منٹگمری (ساہیوال)، اوکاڑہ، لائلپور (فیصل آباد) ، سرگودہا، جھنگ، ملتان اسیالکوٹ وزیر آباد، گوجرانوالہ ، لاہور اور راولپنڈی تشریف لے گئے نے