تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 597 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 597

استقبال کے لئے آگے بڑھتی تھیں کہ سب سے پہلے وہی شرف زیارت سے مشرف ہوں اس وقت کی کیفیت نہایت ہی عجیب اور ولولہ انگیز تھی۔جب حضور کی کار احاطہ مسجد مبارک کے صدر دروار پر پہنچی تو احباب نے اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے نعرے لگانے بند کر دیئے اور ۳۰ اطفال کی ایک اور پارٹی نے جو محمد اسحاق صاحب خلیل ابن مکرم مولوی محمد ابراہیم صاحب قلیل مبلغ مغربی افریقیه کی زیر نگرانی وہاں متعین تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ سلام کی تحریہ فرمودہ آمین کے دعائیہ اشعار پڑھنے شروع کر دیئے۔حضور ایدہ اللہ کی کا ر احاطہ میں داخل ہو کہ مسجد مبارک کے عقب میں قصر خلافت کے مشرقی دروازے پر آکر رک گئی۔موٹر کار سے اترنے کے بعد حضور پہلے محراب کے دروازے میں سے مسجد مبارک میں رجس کے در و دیوار سجلی کے قمقموں سے بقعہ نور بنے ہوئے تھے ) تشریف لے گئے اس وقت صاحبزادہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ، صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب۔میاں غلام محمد صاحب اختر اور مولانا جلال الدین صاحب شمس بھی حضور کے ہمراہ مسجد میں داخل ہوئے۔باقی احباب باہر ہی کھڑے رہے حضور نے اس حال میں کہ یہ چاروں اصحاب حضور کے پیچھے کھڑے تھے محراب میں قبلہ رخ ہو کر نہایت رقت انگیز دعا کرائی۔جس میں باہر کھڑے ہوئے احباب بھی شریک تھے۔دُعا سے فارغ ہونے کے بعد حضور تمام احباب کو السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کا نا کہ کر ساڑھے سات بجے شب قصر خلافت میں تشریف لے گئے اور احباب اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور حضور کی صحت و سلامتی اور درازی عمر کے لئے دعائیں کرتے ہوئے گھروں کو لوٹے۔دیر گئے رات تک ربوہ کے گلی کوچوں اور بازاروں میں رونق رہی۔چراغاں کے باعث ریوں کی وہ وادی جو آج سے چند سال قبل بالکل لیے آب و گیاہ محنتی چراغاں کی وجہ سے جگ مگ کر رہی تھی۔چاند کی چٹکی ہوئی روشنی میں چراغاں کے باعث یوں معلوم ہو رہا تھا کہ آسمان و زمین سے نور کی متصل بارش ہو رہی ہے اس میں اہل ربوہ کے لئے ایک عظیم الشان نشان تھا اور وہ یہ کہ سیمی نفس جس کے دم سے مغرب میں اسلام کا سورج طلوع ہوا ہے۔“ تور آتا ہے نور " کے الہام کے بموجب مغربی ملکوں کو منور کرنے اور وہاں کے اسیروں کی رستگاری کا سامان مہیا کرنے کے بعد ان کے دلوں کو پھر جلا بخشنے کے لئے ان کے درمیان واپس آیا ہے۔اس کے آنے پر وہ چراغاں کے منظر میں نور