تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 598
۵۷۲ آتا ہے نور کی عملی تفسیر مشاہدہ کر رہے تھے۔یوں تو تمام محلوں کی گلیوں اور مشرکوں پر بجلی کی روشنی کا اہتمام کیا گیا تھا اور اہل ربوہ نے اپنے گھروں کی چھتوں پر بھی دیئے جل کو چراغاں کی تھی لیکن مسجد مبارک ، ملحقہ عمارتوں ، دفاتر صدرانجمن احمدیه ، تحریک جدید ، دفتر لجنہ اماءاللہ مرکزی ، تعلیم الاسلام کالیج ، فضل عمر ہوسٹل ، جامعہ نصرت تعلیم الاسلام ہائی سکول ، فضل عمر ریسرچ انسٹیٹیوٹ، نصرت گرلز ہائی سکول، دارالضیافت، اور دفتر مجلس خدام الاحمد به مرکزیہ کی روشنی کی بات ہی اور تھی۔ربوہ کی میرا نوار لبستی کا یہ نظارہ نہایت درجہ روح پرور تھا۔اگرچہ اہل ربوہ اس وقت اپنے اپنے گھروں اور مسجدوں میں نوافل پڑھنے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے میں مصروف تھے۔پھر بھی گھروں کی بلندیوں پر لگے ہوئے بجلی کے بڑے بڑے بلب راستوں کی روشنی اور بعض بڑی بڑی عمارتوں پر بجلی کے قمقموں کی ضیا پاشی آنکھوں کے سامنے ایک بڑے اور ترقی یافتہ شہر کا منظر پیش کر رہی تھی۔اور بالخصوص ربوہ کی جنوب مشرقی پہاڑی پر تیز روشنی کا جو اہتمام کیا گیا تھا وہ ایک روشن قندیل کی مانند جھلملا رہی تھی اور ایک ایسی کیفیت پیدا کر رہی تھی کہ گویا آسمان کا کوئی روشن ستارہ نیچے ہو کر زمین کے قریب آگیا ہے۔اور اس کی بستی میں رہنے والوں کو ایک نئی صبح صادق کا مژدہ سنا رہا ہے لیے مبارک سفر کا مبارک اختتام الفرض می را بالا می بشارت کے مطابق داده در حیم وکریم برگرد جس طرح الہامی خداوند برتر کا یہ موعود خلیفہ مبارک تھا۔اسی طرح اس کے سفر یورپ کا اختتام بھی ہر اعتبار سے مبارک ثابت ہوا جس کے قدم قدم پر آسمانی نصر توں، برکتوں ، تائیدوں کا غیر معمولی اجتماع ہوا جو حضرت مصلح موعود کی حقانیت کا چمکتا ہوا اقتداری نشان اور حضور کے مرتبہ بقا کی بلند رفعتوں کا آئینہ دار تھا کیونکہ سید نا حضرت مسیح موعود صاف طور پر تحریر فرماتے ہیں :۔ان اقتداری خوارق کی اصل وجہ یہی ہوتی ہے کہ شخص شدت اتصال کی وجہ سے خدائے عز و جل کے رنگ سے کلی طور پر رنگین ہو جاتا ہے اور تجلیات الہیہ اس پر دائمی قبضہ کر لیتے ہیں اور محبوب حقیقی حجب حائلہ کو درمیان سے اٹھا کہ نہایت شدید قرب کی وجہ سے ہم آغوش ہوجاتا ل - روزنامه الفضل ربوه ۲۷ ستمبر ۹۵ مدت ۲ دقت۔