تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 596
۵۷۰ پرکیف سماں باندھ رکھا تھا۔بالخصوص گولبازار کی سج دھج اور روشنی قابل دید تھی۔صدر انجین احمدیہ تحریک جدید۔لجنہ اماءاللہ اور مجلس خدام الاحمدیہ کے مرکزی دفاتر بجلی کے رنگ دار قمقموں اور خوش آمدید کے روشن حروف سے جگمگ جگمگ کر رہے تھے۔راستے میں صدر انجمن احمد یہ تحریک جدید دفتر پرائیویٹ سیکرٹری و خلافت لائبریری اور محلہ جات نے اپنی طرف سے علیحدہ علیحدہ خوش آمدید کی نہایت خوش نما محرابیں بنائی ہوئی تھیں جس پر مصلح موعود کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات اور اشعار کپڑوں پر نہایت دلکش انداز میں لکھے ہوئے تھے۔کہیں اے فخر رسل قرب تو معلوم شد دیر آمده زره دور آمده۔کا طغری آویزاں تھا تو کہیں اَهْلاً وَ سَهْلاً وَ مَرْحَبًا کے الفاظ لکھ کر دلی جذبات کا اظہار کیا گیا تھا۔کہیں " آمدنت باعث آبادی ما " کا مصرعہ اپنی طرف متوجہ کرتا تھا۔کہیں" نور آتا ہے نور کا الہام اپنی روشنی سے لگا ہوں کو خیرہ کر رہا تھا۔دارالصدر شرقی میں مولوی عبداللطیف صاحب ٹھیکیدار اور سردار رحمت اللہ صاحب نے بھی اپنے طور پر خوش نما اور رنگین دروازے لگا کر اپنی عقیدت کا اظہار کیا اور بالخصوص ڈاکٹر فرزند علی صاحب جنرل پریذیڈنٹ ربوہ نے احاطہ مسجد مبارک کے صدر دروازے پر خاص اپنی طرف سے بڑے اہتمام سے سبز رنگ کا دروازہ نصب کر کے اس طور پر استقبال میں شریک ہونے کی سعادت حاصل کی۔ریلوے اسٹیشن سے لے کر احاطہ مسجد مبارک کے صدر دروازے تک مسلسل اہل ریوہ اپنے محبوب آقا کی ایک جھلک دیکھنے اور دل کی گہرائیوں سے اخلاقَ سَهْلاً وَ مَرْحَبًا۔کہنے کی سعادت حاصل کرنے کے لئے سراپا انتظار بنے کھڑے تھے حضور کی کار دوسری کاروں کے ہمراہ اسٹیشن سے آہستہ آہستہ چلتی ہوئی جب اس راستے سے گزرنی شروع ہوئی تو احباب پر خوشی ومسرت کا جو عالم طاری ہوا اور جس جوش وخروش کے ساتھ نعرے لگا لگا کر انہوں نے حضور کو خوش آمدید کہا۔وہ ہ اپنی نظیر آپ ہی ہے قدم قدم پر فضا السّلام علیکم ورحمته الله و بركاته ، اهلا و سهلاو مَرْحَباً - الله اكبر۔:: - اسلام زنده باد احمدیت زنده باد۔امیر المومنین زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھتی تھی۔اور نعرے لگانے والوں کے ساتھ ساتھ ہر شخص کی نگاہیں اس اشتیاق کے ساتھ