تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 509 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 509

۴۷ پیغام پہلا خطبہ تھا : لکھوانے کے بعد حضور نے درج ذیل مختصر خطبہ ارشاد فرمایا جو بیماری کے بعد حضور کا تشہد اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- پرسوں تک تو میں چار پائی پر بیٹھ کر نماز پڑھتا رہا مگر کل جو لیڈی ڈاکٹر علاج کے لئے آئیں رمیں ان کے والد مرحوم سے جو مولانا محمد علی صاحب مرحوم اور ڈاکٹر انصاری صاحب کے واقف اور دوست تھے ) واقف تھا انہوں نے اعصابی بیماریوں کے علاج کی تعلیم امریکہ سے کی ہے۔نہایت سنجیدہ اور توجہ سے علاج کرنے کی عادت ہے اس لئے کرنل سعید صاحب سر جن سندھ نے میری گردن کے علاج کے لئے انہیں بھجوایا تھا وہ گورنر جنرل صاحب کی بھی معالجہ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اُن کے دل میں کیا ڈال کہ انہوں نے مجھے کہا کہ آپ باہر جا کر نماز پڑھا کریں میں نے کہا کہ مجھے تو باہر جانے میں کمزوری محسوس ہوتی ہے لیکن انہوں نے کہا کہ آپ کو صرف سیڑھیوں سے اترنے کی تکلیف ہوگی لیکن باہر جانے سے آپ کا دل بھی لگے گا اور آپ کی جماعت کے دوست بھی خوشی محسوس کریں گے۔پھر انہوں نے اصرار کیا کہ کل جمعہ ہے آپ جمعہ کی نماز بھی پڑھائیں۔میں نے کہا مجھے تو گلے کی تکلیف ہے اس لئے میں زیادہ بول بھی نہیں سکوں گا۔لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ آپ تھوڑا بولیں اس سے آپ کی جماعت بھی خوش ہو گی اور آپ کی تفریح بھی ہو جائے گی۔میں نے بتایا کہ مجھے تو لمبا بولنے کی عادت ہے اور اگر بولنا شروع کر دں تو دیر تک بولتا چلا جاتا ہوں۔انہوں نے پھر کہا کہ آپ اپنے پاس دونوں طرف دو آدمی بیٹھا لیں جو تھوڑی دیر کے بعد کرنہ سے پکڑ کر آپ کو کھینچ کر بتا دیں اور آپ تقریر ختم کر دیں میں نے کہا یہ کس کو جرات ہو سکتی ہے تو انہوں نے کہا کہ آپ اپنے بیٹوں میں سے کسی کو پاس بٹھا لیں میں نے کہا کہ میں تو ان کی طرف اگر غضب سے دیکھوں بھی تو وہ پہلے ہی سے بہت دُور بھاگ رہے ہوں گے لیکن چونکہ انہوں نے پھر بھی اصرار کیا اس لئے میں نے خیال کیا کہ یہ بھی کوئی الہی تحریک ہی ہوگی اس لئے میں نے ان کی بات مان لی اور فیصلہ کیا کہ میں جمعہ کی نماز پڑ ھاؤں گا۔کل ظہر اور عصر کی نماز بھی میں نے اس لئے باہر پڑھائی مفتی بہر حالی اس طرح وہ بھی اس کے ثواب میں شریک ہو گئیں اور آپ لوگوں کی بھی خواہش پوری ہوگئی۔چند دنوں کے اندر اندر ہم انشاء اللہ چلے جائیں گے پھر اللہ تعالے جانتا ہے کہ کون ملے گا اور کون نہیں۔میں جاتے ہوئے جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس ایک ایسا خزانہ