تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 497
تحریک جدید کی طرف سے دو بکرے بطور صدقہ ذبح کئے گئے۔ایک بکرا صدر انجمن کی طرف سے مکرم مولوی جلال الدین صاحب شمس نے اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور دوسرا بکر انتحر یک جدید کی طرف سے قائم مقام وکیل اعلی جناب چوہدری غلام مرتضی صاحب نے ذبح کیا۔حضور کی کار قافلے کی دوسری کاروں کے ہمراہ آہستہ آہستہ روانہ ہوئی۔احباب جماعت جو قصر خلافت کے دروازے سے لے کہ چنیوٹ جانے والی پختہ سڑک تک دورو بہ کھڑے ہوئے تھے پر نم آنکھوں کے ساتھ بلند آواز سے السلام علیکم امیرالمؤمنین" اور فی امان اللہ تعالٰی " کہتے جاتے تھے حضور کی کار جونہی احاطہ مسجد مبارک کے صدر دروازے سے باہر آئی۔ربوہ کی مقامی جماعت کی طرف سے دو بکرے بطور صدقہ ذبح کئے گئے۔دفتر پرائیویٹ سیکرٹری صاحب سے لے کہ چنیوٹ جانے والی پختہ سڑک تک احباب کے ہجوم کا یہ عالم تھا کہ کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔حضور قصر خلافت سے روانہ ہونے کے بعد حضرت سیدہ نصرت جہاں کے مزار مبارک پر ڈھا رہے موموں کے فیرستان میںحضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم کے مزار مبارک پر دعا کے لئے تشریف لے گئے۔مزار مبارک کی چار دیواری کے با ہر دروازے کے عین سامنے موٹر میں بیٹھے ہوئے ہی حضور نے دعا فرمائی جس میں خاندان حضرت مسیح موعود کے اکثر افراد اور بعض خدام شریک ہوئے دُعا سے فارغ ہونے کے بعد حضور لاہور روانہ ہوئے جب حضور کی کار قافلے کی دوسری کاروں کے ساتھ پختہ سڑک پر پہنچی تو ربوہ کے تمام احباب دوڑ دوڑ کر پھر پختہ سڑک کے دورویہ جمع ہو چکے تھے اور قطاروں کا یہ سلسلہ جانب مشرق قریب قریب پہاڑیوں تک پھیلا ہوا تھا جب تک حضور کی کار سٹرک پر دو پہاڑیوں کے درمیان سے گزر کر حد نگاہ سے دور نہ چلی گئی۔احباب جماعت شرک پر کھڑے کار کی طرف دیکھتے رہے اور پھر سفر کے بابرکت ہونے اور کامل صحت کے ساتھ حضور کے واپس تشریف لانے کے بارے میں دُعائیں کرتے ہوئے ربوہ واپس لوٹے اس وقت دیگر دعاؤں کے ساتھ اکثر احباب یہ شعر بھی بار بار پڑھ رہے تھے۔به سفر رفتنت مبارک باد بسلامت روی و باز آئی۔1404 اخبار روزنامه الفضل گریوه ۲۴ مارچ ۱۹۵۵ و صدا