تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 496
صدر انجمن اور تحریک جدید کے ناظرہ وکلاء صاحبان دیگر شعبہ جات کے افسران پھلوں کے پریذیڈنٹ صاحبان اور اہالیان ربوہ نے کثیر تعداد میں قصر خلافت کے باہر جمع ہو کہ محبت دارا دت اور اخلاص و عقیدت کے گہرے جذبات اور در دو سوز میں ڈوبی ہوئی دعاؤں کے ساتھ اپنے محبوب امام کو رخصت کیا۔تمام احباب اپنے آقا کی اس عارضی جدائی پر بے چین ہوئے جا رہے تھے اور عجیب اضطراب کے عالم میں زیر لب نہایت درجہ عاجزی اور الحاج سے رب العزت کے حضور دعائیں کر رہے تھے کہ اسے خدا تو اس مقدس وجود کا جو تیری ہی عنایت اور تیری ہی شفقت سے ہمارے لئے سایہ رحمت ہے ہر گھڑی اور ہر لمحہ نگہبان ہو اور اُسے اپنے خاص الخاص فضل کے تحت اپنی بارگاہ سے شفائے کامل و عاجل عطا کرتا کہ بہت جلد ہمارے درمیان پھر رونق افروز ہو کہ ہمارے دلوں کو شاد کام کرے اور اس کے وجود کی برکت سے ہم میں خداست اسلام کا ایک نیا جوش اور نیا دولولہ پیدا ہو کہ جو دنیا کی کایا پلٹ دے۔قصر خلاقت سے روانگی حضور نو بجے سے چند منٹ قبل قصر خلافت کے اس دروازے سے باہر تشریف لائے جو مسجد مبارک کے عقب کی جانب ہے۔تمام احباب جماعت قصر خلافت کے باہر راستے کے دونوں طرف صف بستہ کھڑے زیر لب دعاؤں میں مصروف تھے سید داؤ د احمد صاحب کے کندھے کا سہارا لے کر حضور موٹر کار میں سوار ہوئے کارہ کی پچھلی سیٹ پر رونق افروز ہونے کے بعد حضور نے اجتماعی دعا کرائی درد و سوز میں ڈوبی ہوئی دُعاؤں کا یہ روح پرور نظارہ ایک خاص کیفیت کا حامل تھا۔احباب کرام حضور ایدہ اللہ کی اقتداء میں اللہ تعالیٰ کے حضور سفر کے بابرکت ہونے اور کامل شفایابی کے بعد حضور کے سنخیر و عافیت واپس آنے کے لئے اس قدر عاجزی اور الی ہے سے دعائیں کر رہے تھے کہ مسجد مبارک اور قصر خلافت سے ملحقہ سارا علاقہ ہچکیوں اور سسکیوں کی دردانگیز آوازوں سے گونج رہا تھا اور ہر دل گواہی دے رہا تھا کہ مولا کریم اور اس کے محبوب بندوں کا یہ دازه نیاز انشاء اللہ العزیز اثر لائے بغیر نہ رہے گا۔دُعا کے اختتام پر ہر آنکھ سے آنسو رواں تھے اور ہر فرد اپنے محبوب آقا کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بیتاب تھا۔ٹھیک نو بجے جب حضور کی کار حرکت میں آئی تمام صدقے کے طور پر بکروں کی قربانی فضای امان اله تعالی در سلامت روی و باز آئی فی ، اور کی آوازوں سے گونج اٹھی۔موٹر کے حرکت میں آتے ہی مسجد مبارک کے عقب میں صدر انجمن احمدیہ اور