تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 495
۴۷۵ فصل دوم سید نا حضرت مصلح موعود قبل از میں ۱۹۳۳ میں ویمبلے کا نفرنس میں شرکت کے لئے یورپ تشریف لے گئے تھے۔اس اعتبار سے یہ حضور کے عہد خلافت کا دوسرا اور آخری سفر یورپ تھا جس کا آغاز ۲۳ مارچ شہداء کو اور اختتام ۲۵ ستمبر ۹۵ ایء کو ہوا۔یہ سفر حضور نے اگرچہ يعرض صلاح اختیار فرمایا تاہم اپنی برکات اور تاثیرات کے نتیجہ میں یورپ میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی مضبوط بنیاد ثابت ہوا۔اکتیس سال پہلے کا ایک رویا ریاست برودہ کے ایک غیر احدی رئیں نواب سید صدر الدین صاحب حسین خان صاحب نے ۱۹۲۴ ء میں یہ خواب دیکھا کہ :۔ایک مکان میں اسباب بندھا رکھا ہے اور اہل خانہ کسی بڑے سفر کی تیاری میں مصروف ہیں۔اتنے میں دیکھا کہ صاحب خانہ بھی نہایت مصروفیت کی شان سے سامان درست کر رہے ہیں۔آخر میں انہوں نے فرمایا۔جہاز تیار کرو اور یہ اسباب ان پر لا دو۔عرض کیا۔حضور کہاں کا ارادہ ہے فرمایا یورپ جاتا ہوں۔علاج کرنا ہے۔یہ دریافت کیا گیا۔آپ کا اسم شریف ؟ فرمایا میرا نام عمر ابن الخطاب ہے یہ حضرت فضل عمر کا یہ سفر یورپ ۱۹۲۳ء کے اس رحمانی خواب کی ایک شاندار عملی تعبیر تھا اور مجیب بات یہ ہے کہ اس کا فیصلہ بھی غیر از جماعت ڈاکٹروں کے پیہم اصرار اور مشورے کی بناء پر کیا گیا۔سفر یورپ کا آغازه در ماریا شاہ کو سینا حضرت خلیفہ تاسیسی انسانی علاج کے لئے یورپ جانے کے ارادے سے صبح نو بجے بذریعہ کار لا ہور تشریف لے گئے۔۲۳ ۲۰ جولائی ۱۹۲۴ و تا ۲۴ تومیری ۹۳ و تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد پنجم من ۳۵ ۰ تا مه ۴۳۔سے رسالہ صوفی بحوالہ روزنامہ الفضل " قادیان در اکتوبر ۱۹۲۳ء من