تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 494
معلم واجب فیصلہ کریں تو اس کے پورا کرنے کا مجھے حکم دیں تا ایسانہ ہو کہ کوئی اور مسلمان ایسا کر بیٹھے تو میرے دل میں منافقت پیدا ہو اور اس کا بغض میرے دل میں پیدا ہو جائے۔رسول کریم صل اللہ علیہ ستم نے فرمایا ہمارا ارادہ یہ نہیں ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو چونکہ عبداللہ بن ابی ابن سلول نے یہ کہا تھا کہ مدینہ پہنچنے دو۔مدینہ کا سب سے معزز آدمی یعنی عبد اللہ بن ابی ابن سلول مدینہ کے رہنے ذلیل آدمی یعنی نعوذ باشد متر رسول اللہ صل الله علوم تم کو وہاں سے نکال دے گا عبداللہ بن ابی این سکول کے لڑکے نے تلوار نکال لی اور مدینہ کے دروان کے آگے کھڑا ہو گیا اور اپنے باپ کو مخاطب کر کے کہا اے باپ تو نے فقرہ کہا تھا خدا کی قسم میں وہ وقت ہی نہیں آنے دونگا کہ تو اس بات کو پوراکرنے کا ارادہ کیے تو ایک قدم بھی آگے بڑھنے کی کوشش کو۔میں اپنی تلوار سے تیرا سر کاٹ دوں گا۔صرف ایک صورت تیرے مدینہ میں داخل ہونے کی ہے۔اپنی سواری سے اتر آ اور زمین پر کھڑے ہو کہ کہ کہ مدینہ کا سب سے معزز آدمی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔اور سب سے ذلیل وجود یکیں ہوں۔اگر تو یہ کہے گا تو میں تجھے مدینہ میں داخل ہونے دوں گا ورنہ تجھے قتل کردوں گا۔عبید اللہ بن ابی ابن سلول اپنے بیٹے کے ایمان کو دیکھ کر ایسا مرعوب ہوا کہ فورا اپنے اونٹ سے اتر آیا اور اس نے وہی فقرے کہے جو اس کے بیٹے نے کہے تھے تب اس کے بیٹے نے اسے مدینہ میں داخل ہونے دیا۔سو دین کے معاملہ میں باپ دادا استاد پیر کی بھی کوئی حیثیت نہیں جو کہتا ہے دین کی حقارت کرد تم اس کا مقابلہ کرو اگر تمہارے ٹکڑے ٹکڑے بھی ہو جائیں تو خوشی سے اس موت کو قبول کرو کیونکہ وہ موت تمہاری نہیں تمہارے دشمن کی ہے۔حدیثوں میں آتا ہے آخری زمانہ میں دبال ایک مومن کو قتل کرے گا پھر اس کو زندہ کرنے گا۔پھر اس کو دوبارہ قتل کرنا چاہے گا لیکن خدا اس کو توفیق نہیں دے گا۔سویا درکھو کہ وہ مروت جو تم خدا کے لئے قبول کرو گے وہ موت آخری نہیں ہوگی اس کے بعد خدا تمہیں پھر زندہ کو لیگا اور تمہیں دین کی خدمت کی توفیق دے گا۔پس اسے نوجوانو ! اسے خدام الاحمدیہ کے ممبر و ! میری اس نصیحت کو یاد رکھو عبداللہ بن ابی ابن سلول کے بیٹے کے واقعہ کو یاد رکھو۔حدیث دقبال کو یا درکھو۔اگر تم خدا کے لئے موت قبول کرو گے تو خدا تم کو ایسی زندگی دے گا جس کو کوئی ختم نہیں کر سکے گا۔اللہ تعالے تم کو سچا مومن اور سچا بندہ بننے کی توفیق دے۔اللهم آمین۔خاکسار۔مرزا محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی ۲۲ ه روزنامه الفضل کیوں (ضمیمہ ) ۲۳ مارچ ۱۹۵۵ء ص ۲ -