تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 493
۴۷۳ کئی دن کی تاروں کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ آپ مجھے روانہ ہوجانا چاہئے میں انشاء اشد کل ۲۳ مارچ کو بدھ کے دن لاہور جا رہا ہوں تاکہ وہاں سے کراچی جاؤں۔احباب کو چاہیے کہ دعاؤں میں لگے رہیں تاکہ اللہ تعالیٰ اِن کا حافظ و ناصر ہو۔میں بھی انشاء اللہ جس حد تک مجھے توفیق ملی ، دعائیں کرتا جاؤں گا۔مجھے ایک حد تک تشویش تو ہے لیکن مایوسی نہیں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری دعاؤں کے جواب میں اپنی مدد ضرور بھیجے گا اور معجزانہ رنگ میں مدد بھیجے گا اگر میری دعاؤں کی تائید میں جماعت کی دعائیں بھی شامل رہیں تو انشاء الله تاثیر بڑھ جائے گی احباب کو خوب یا د رکھنا چاہیے کہ جب کبھی ذمہ دار افسر ادھر ادھر ہوتا ہے تو شریر لوگ فتنہ پیدا کرتے ہیں ہماری جماعت بھی ایسے شریروں سے خالی نہیں بعض لوگ اپنے لئے درجہ چاہتے ہیں۔بعض لوگ اپنے لئے شہرت چاہتے ہیں ایسا کوئی شخص بھی پیدا ہو یا کوئی بھی آواز اٹھائے خواہ کسی گاؤں میں یا شہر میں یا علاقہ میں تو اس کی بات کو کبھی برداشت نہ کریں۔کبھی یہ نہ سمجھیں کہ یہ معمولی بات ہے۔فساد کوئی بھی معمولی نہیں ہوتا حدیثیں اس پر شاہد ہیں جب کوئی شخص اختلافی آواز اُٹھائے فورا لاحول اور استغفار پڑھیں اور خواہ آپ عمر میں سب سے چھوٹے ہوں اور درجے میں سب سے چھوٹے ہوں اور خواہ آپ کے بزرگ اس فتنہ انداز کی بات کی تائید کر رہے ہوں فورا مجلس میں کھڑے ہو جائیں اور لاحول پڑھ کر کہدیں کہ ہم نے احمدیت کو خدا کے لئے اختیار کیا تھا۔ہمارا آسمانی باپ خدا ہے اور ہمارے روحانی باپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔جماعت میں فتنہ پھیلانے والی بات اگر ہمارے عزیز ترین وجود سے بھی ظاہر ہوئی تو ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔عبد اللہ بن ابی ابن سلول کتنا بڑا منافق تھا قرآن کریم میں متعدد آیات اس کی منافقت کے لئے بیان کی گئی ہیں ایک جنگ میں جب اس نے بعض صحابہؓ کی کمزوری دیکھی اور کہا کہ مدینہ چل لو وہاں پہنچتے ہی جو مدینہ کا سب سے بڑا معزز آدمی ہے یعنی نعوذ بالله عبد اللہ بن ابی ابن سلول وہ مدینہ کے سب سے ذلیل آدمی یعنی نعوذ باللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں سے نکال دے گا۔تو عبداللہ ابن ابی ابن سلول کا بیٹا بھی اس جگہ پر موجود تھا۔وہ دوڑتا ہوا رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ میں آپ کو بتاتا ہوں۔میرے باپ نے آج کیسی خباثت کی ہے۔پھر اس نے کہا یا رسول اللہ میں سمجھتا ہوں میرے باپ کی سزا سوائے قتل کے اور کوئی نہیں اگر آپ یہ