تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 470
۴۵۰ پاس اس قسم کے مبلغ تیار ہو جائیں تو جب تک ہم کوئی نیا مشن نہیں کھولتے ہم ان سے دوسرے محکموں میں کام لے سکتے ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ ہم انہیں امور عامہ زراعت، تجارت یا کسی اور محکمہ میں نائب ناظر لگا دیں یا نائب ناظر نہیں تو سپرنٹنڈنٹ ہی لگا دیں اور وقت پر وکالت اور نظارت ان کے سپرد کر دیں اس سے ہمارا خرچ بہت حد تک کم ہو جائے گا۔ایک شخص جس نے زراعت کے محکمہ میں کام کیا ہو، وہ اگر کسی ایسے ملک میں بھیجا جاتا ہے جہاں لوگوں کا زیادہ تر گزارہ زراعت پر ہے تو وہ بوجہ اپنے تجربہ کے تبلیغ کے علاوہ جماعت کی زرعی حالت کو بھی درست کرے گا بہت سے ممالک ایسے ہیں جو زراعت، صنعت اور تجارت میں ابھی پاکستان سے بہت پیچھے ہیں۔یورپ اور امریکہ تو بہت آگے جاچکے ہیں لیکن ایشیا اور افریقہ میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جن کی حالت پاکستان کی نسبت بہت خراب ہے۔اگر ہمارے مبلغ اس قسم کے کام سیکھ کر وہاں جائیں تو دوسرے ممالک میں جا کر نہ صرف وہ جماعت کے لئے مفید وجود ثابت ہوں گے بلکہ گورنمنٹ کی نظر میں بھی اور پبلک کی نظر میں بھی وہ ملک کے لئے مفید ہوں گے اور وہ سمجھے گی کہ یہ لوگ صرف مولوی نہیں بلکہ ایک زمیندار صناع اور تاجر بھی ہیں اور اگر یہ طریق اختیار کر لیا جائے کہ فارغ وقت میں مبلغین کو کسی اور کام پر لگا دیا جائے تو یہ خطرہ نہیں ہوگا کہ زیادہ آدمیوں کو کہاں لگائیں۔پھر یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ مبلغین کو بی اے کرا کے جرنلسٹ یا استاد بنا دیا جائے۔۔۔میں نے بارہا اس طرف توجہ دلائی کہ مبلغین کو طب سکھائی جائے۔اگر ایسا انتظام کیا جائے تو بہت تھوڑی سی توجہ سے وہ طبیب بن جائینگے پہلے حضور کی اس مفید سکیم کے مطابق جامعتہ المبیشترین میں دیسی طب اور ٹیکہ لگانے کا کام سکھایا جانے لگا اور حضور کے ارشاد پر دو شاہد ربوہ کے قریب الاٹ شدہ زمین پر زراعت کے کام پر لگا دیئے گئے جنہوں نے بڑی محنت سے کام کیا۔یہ خدمت جن شاہدین کو سپرد کی گئی اُن میں سے ایک چوہدری رشید الدین صاحب اور دوسرے چو ہدری محمد اشرف صاحب تھے۔مقدم الذکر بعد میں نائیجیریا اور لائبیریا میں تبلیغی خدمات بجا لاتے رہے اور اب مرکز میں ہیں۔کے روزنامہ " الفضل" ریوه ۳ فروری شاء ص۲