تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 469
آپ کے اپنے دستِ مبارک کی لکھی ہوئی ہے۔در حقیقت یہ آپ کی کتاب حقیقۃ الوحی کے مسودہ کا ایک حصہ ہے مگر اس کے بارے میں یاد رہے کہ یہ تحریر قلم برداشتہ ہے حقیقت الوحی کے چھپتے وقت اصلی کا ہوں اور مطبوعہ کلام کا مقابلہ کرنے پر، اور ترجموں پر نظر ثانی کرنے پر اصلاح کی گئی اس لئے تحقیر ہوتی مطبوعہ اور اس مسودہ میں کچھ قلیل سا فرق ہو گیا ہے۔ایسے اختلاف کے بارہ میں یاد رکھنا چاہیئے کہ جو حقیقۃ الوحی میں چھپا ہے۔وہ اصل ہے اور جو اس مسودہ میں ہے وہ اس کے تابع ہے۔یہ مسودہ بطور تیرک زیادہ قدر وقیمت رکھتا ہے اور حقیقۃ الوحی کا مطبوعہ کلام بطور صحت زیادہ قدر و قیمت رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی قدر سمجھنے اور کرنے کی توفیق بخشے۔والسلام خاکسار - مرزا محمود احمد۔حضور نے یہ مکتوب مولانا محمد یعقوب صاحب طاہر مولوی فاضل انچارج شعبہ زود نویسی کو لکھوایا اور اس کے آخر میں حضور انور نے اپنے قلم مبارک سے اس پر دستخط ثبت فرمائے ہے فارغ التحصیل شد بین کیلئے نئی سکیم سید نا حضرت مصلح موجود نے اس سال کے شروع میں فارغ التحصیل طلبائے جامعہ کے لئے ایک نئی سکیم جاری فرمائی جس کا اعلان ۱۳۸ جنوری شہداء کے خطبہ جمعہ میں درج ذیل الفاظ میں فرمایا :- میری تجویز یہ ہے کہ جو طالب علم مبلغین کلاس پاس کر لیں انہیں تبلیغ کے کام پر لگانے سے پہلے تین تین ماہ کے لئے کم سے کم چار دفاتر میں کام کرنے کا موقع دیا جائے۔مثلاً تین ماہ وہ بیت المال میں کام کریں، تین ماہ نظارت امور عامہ میں تین ماہ دعوت و تبلیغ میں کام کریں تین ماہ کسی اور دفتر میں کام کریں اور اگر آدمی زیادہ ہو جائیں تو اس ایک سال کے عرصہ کو دو سال تک بڑھا دیا جائے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کا ذہن صرف مولویت تک محدود نہیں رہے گا۔بلکہ صحابہ کرام کی طرح اُن کے اندر دفتری کاموں ، تجارت، صنعت اور زراعت، سیاست، اقتصاد معاشرت پر غور کرنے کی عادت پیدا ہو جائے گی اُن کے اندر مال کے انتظام اور اس میں ترقی دینے، جماعت کی حالت کو سدھارنے اور تعلیم وغیرہ کی قابلیت بھی پیدا ہو جائے گی۔انہیں مختلف محکموں کے کام کا پتہ لگ جائے گا اور ضرورت پڑنے پر وہ اس کام کے کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں گے اگر ہمارے که روزنامه الفضل ریوه ۲۲ دسمبر ۳۶۱۹۶۷