تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 468 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 468

اسی تسلسل میں حضور نے ۲۱ جنوری ۱۹۵۵ء کو ایک اور خطبہ ارشاد فرمایا جس میں جماعت کے ہر فرد کو دوبارہ یہ تاکید فرمائی کہ اسے یہ عہد کر لینا چاہیئے کہ وہ سخت سے کام کرے گا عقل سے محنت کرے گا اور اور اپنے آپ کو ہر کام کے نتیجے کا ذمہ دار قرار دے گا حضور کا یہ خطبہ الفضل ور فروری 90ء کی اشاعت میں چھپا اور اس کی نسبت بھی حضور کی طرف سے یہ حکم دیا گیا کہ :- یہ خطبہ ایک دفعہ ہر مسجد احمدیہ میں سنایا جائے اسی طرح ایک ایک مرتبہ ہر جگہ کی خدام الی حمدیہ کی مجلس میں بھی سنایا جائے۔حضرت مصلح موعود کی طرف سے جماعتہا اور انڈونیشیا کیلئے جمعتہائے مصری المانیشیا کے نائب صدر مکریم راڈن ایک قیمتی نیترک ہدایت صاحب اوائل ۱۹۵۵ء میں مرکز سلسلہ ربوہ میں ایک ماہ سے زائد عرصہ مقیم رہنے کے بعد جب واپس اپنے وطن تشریف لے جانے لگے تو انہوں نے حضرت اقدس المصلح الموعوددؓ سے خواہش کی کہ جماعت ہائے احمدیہ انڈونیشیا کے لئے انہیں کوئی تبرک عنایت فرمایا جائے بحضور نے ان کی خواہش کے احترام میں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کی تصنیف حقیقۃ الوحی کے مسودہ کا ایک حصہ جو آٹھ صفحات پرمشتمل تھا۔اپنے پاس سے عنایت فرمایا اور ہدایت فرمائی کہ اصل مسودہ کا عکس مرکز میں محفوظ رکھا جائے چنانچہ حضور کی اس ہدایت کی تعمیل میں اس کے عکس کی تین کا پیاں لی گئیں جو خلافت لائیر بیری ریوہ میں محفوظ ہیں۔اور پھر اصل تیرک دو رومالوں میں لپیٹ کر اور ڈیئے میں بند کر کے چناب ایکسپریس کی روانگی سے قبل ۱۳ فروری شہداء کو مکرم راڈن صاحب ہدایت کے سپرد کر دیا گیا اس تبرک کے ساتھ حضرت المصلح الموعود نے جماعت احمدیہ انڈونیشیا کو ایک خط بھی لکھا جس کی نقل ذیل میں درج کی جاتی ہے۔" جماعت احمدیہ انڈونیشیا ! خدا تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کا نہ آپ کی جماعت کے اخلاص اور محبت احمدیت کو دیکھ کو میں ایک تبرکی حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کا آپ کو بھجواتا ہوں اور یہ آپ کی ایک تحریر ہے جو لے یہ سودہ حقیقة الوحی طبع اول کے 9 تامل سے متعلق ہے جس کے شروع میں العام الحافظ كل من في الدار درج ہے اور آخر میں وہی مسیح موعود کہلائے گا منہ " کی عبارت ہے۔}