تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 460
مام مندرجہ بالا لٹریچر کے علاوہ جو پاکستان میں شائع ہوا۔سیٹھ محمد معین الدین صاحب چنت گنٹہ حیدر آباد دکن (بھات) نے حضرت مولوی غلام رسول صاحب فاضل را جیکی کی خود نوشت اور ایمان افروز سوانح حیات قدسی حصہ سوم شائع کرائی۔۔به کتاب حضرت مولوی صاحب کی تبلیغی مہمات، ایمان کو جلا بخشنے والے حالات اور الہی تائیدات کے بہت سے واقعات پرمشتمل تھی حضرت صاحبزادہ مرز المبشیر احمد صاحب نے اپنے ایک خط میں حضرت مولوی صاحب کو لکھا آج آپ کا رسالہ حیات قدسی حصہ سوئم مرزا عزیز احمد صاحب نے لا کر دیا ہے اور میں نے پڑھنا شروع کیا ہے۔مبارک ہو بہت رواج پر در مضامیں ہیں۔ایسی کتابوں کی احمدیوں اور بغیر احمدیوں میں بکثرت اشاعت ہونی چاہیئے۔مناظرانہ باتوں کی نسبت اس قسم کے روحانی مذاکرات کا زیادہ اثر ہوتا ہے اللہ تعالے آپ کی عمر اور علم میں برکت عطا کرے اسے الحاج مولوی عزیز الرحمن صاحب قبل منگلا اس سال جو خوش نصیب تحریک حریت کا قبول احمدیت سے وابستہ ہوئے اُن میں ایک ممتاز شخصیت الحاج مولوی حافظ عزیز الرحمن صاحب فاضل مشکل کی ہے۔جو جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت مصلح موجود کے دست مبارک پر بعیت کر کے داخل احمریت ہوئے اور ضلع جھنگ میں بہت سی نئی جماعتوں کو قائم کرنے کا موجب ہوئے۔اور اب اپریل ایر سے مربی سلسلہ احمدیہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔محترم مولوی صاحب موصوف چک منگلا کے رہنے والے ہیں۔جو ریلوے اسٹیشن سو بھا کہ ضلع سرگودھا کے میں مشرق میں دو میل کے فاصلہ پر واقع ہے یورصہ ہوا ایک جید عالم اور دیوبند کے فارغ التحصیل پیر منور الدین صاحب رساکن بھو چھال کلاں ضلع جہلم ، اس گاؤں میں رہائش پذیر ہو گئے۔اور وہاں ایک مدرسہ جاری کر دیا جس میں ارد گرد کے طلباء نے کافی تعداد میں داخل ہو کہ تحصیل علم کیا۔مکریم مولوی عزیز الرحمن صاحب نے آٹھویں جماعت پاس کرنے کے بعد مذکورہ مدرسی میں داخل ہو کہ ابتدائی طور پر عربی علوم کی تحصیل کی۔بعد ازاں ایک مشہور عالم مولوی نصیر الدین حساب ه "بدر ۲۱ تا ۲۸ نومبر و ۷ دسمبر ۱۹۵۶ء