تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 459 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 459

۴۳۹ به چو محاسن کلام محمود " کتاب ہے اس پر مجھے اس لئے خوشی ہے کہ ہماری جماعت کے ایک نوجوان ادیب نے اسے لکھا ہے۔لوگوں میں عادت ہوتی ہے کہ جب وہ ذرا آگے بڑھنا شروع کرتے ہیں تو ان کو خیال ہوتا ہے کہ کوئی ایسی بات نہ کہیں جس سے اس حلقہ میں ہماری بد نامی ہو جائے مگر اس نوجوان کی تہمت ہے کہ اس نے شاعری کا شوق رکھتے ہوئے یہ کتاب لکھ دی اور وہ نہیں ڈرا کہ دوسرے شاعر جن کی مجلسوں میں میں جاتا ہوں وہ مجھے کیا کہیں گے۔یوں میرے دل میں خود خیال آیا کہنا تھا کہ میرے اکثر شعر در حقیقت کسی آیت کا ترجمہ ہوتے ہیں یا کسی حدیث کا ترجمہ ہوتے ہیں یا کسی فلسفیانہ اعتراض کا جواب ہوتے ہیں۔لیکن لوگ عام طور پر اگر صرف وزن میں تریم پایا جاتا ہے اور موسیقی پائی جاتی ہے تو شن کر ہا ہا کہ لیتے ہیں۔مجھے کئی دفعہ خیال آتا تھا کہ لوگ سمجھنے کی طرف کم توجہ کرتے ہیں۔اگر کوئی شخص اس طرف توجہ کرے تو شاید یہ زیادہ مفید ہو سکے۔چنانچہ اس نواجوان نے یہ پہلی کوشش کی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ اور کوشش کرنے والے کوشش کریں گے یا انہی کو تو فیق مل جائے گی اور یا پھر اور لوگ پیدا ہو جائیں گے۔در حقیقت اگر دیکھا جائے تو میرے اشعار میں سے ایک کافی حصہ بلکہ میں سمجھتا ہوں ایک چوتھائی یا ایک ثلث حصہ ایسا نکلے گا جو در حقیقت قرآن شریف کی آیتوں کی تفسیر ہے یا حدیثوں کی تفسیر ہے لیکن ان میں بھی لفظ پھر مختصر ہی استعمال ہوئے ہیں ورنہ شعر نہیں بنتا، شعر کے چند لفظوں میں ایک بڑے مضمون کو بیان کرنا آسان نہیں ہوتا یا اسی طرح کئی تصوف کی باتیں ہیں جن کو ایک چھوٹے سے نکننہ میں حل کیا گیا ہے۔مثلاً اس نوجوان نے بھی ایک شعر اس میں درج کیا ہے اور اس کو اس شکل میں پیش کیا ہے کہ دیکھو یہ بڑا ادبی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تصوف کا یہ ایک پرا نا سوال ہے کہ خلق عالم کس طرح ہوا۔اس سوال کا جواب اس شعر میں دیا گیا ہے جو درحقیقت ایک فلسفیانہ بات کا جواب ہے کہ اصل میں ہمارے منہ د یک خلق عالم کا ذریعہ یہ ہے اگر اس کو کوئی زیادہ غور کے ساتھ دیکھے تو اسے پتہ چل سکتا ہے بے شک انسان جب محبت کی دھن میں ہوتا ہے تو اس میں کئی خیالات عام جذباتی بھی آجاتے ہیں۔لیکن کچھ ایسے بھی خیالات ہوتے ہیں جن میں فلسفہ یا حکمت بیان کرنے کی کوشش ہوتی ہے کالے که روزنامه الفضل ربوه ۲۵ اکتوبر ۶۱۹۵۵ ۳۰-۴