تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 461
الم لهم ساکن جکڑالہ پھر مکرم مولوی حبیب الرحمن صاحب ساکن کھلانٹ ضلع ہزارہ سے صرف و نحو۔معانی فقہ اور کتب حدیث پڑھیں۔مکرم مولوی صاحب موصوف کو احمدیت کا تعارف اس طرح ہوا کہ اُن کے استاد مکرتم پیر منور الدین صاحب ایک دفعہ لاہور تشریف لے گئے۔وہاں انہوں نے علماء کو ملنے کا پروگرام بنایا۔اس سلسلہ میں وہ مریم مولوی محمد علی صاحب امیر انجمن احمدیہ انجمن اشاعت السلام لاہور کے پاس بھی احمد یہ بلڈنگس تشریف لے گئے۔وہاں ان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعادی کے متعلق بات چیت ہوئی۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے ان کو کافی تعداد میں کتب اپنی گیرہ سے خرید کر پیش کیں۔واپس آکر مکرم پیر صاحب نے ان کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔مکرم مولوی عزیز الرحمن صاحب چونکہ ان کی لائبریری کے منتظم تھے۔اس لئے ان کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ کا موقعہ ملا۔آپ نے اپنی مطبوعہ سوانح عمری میں تحریر فرمایا ہے :۔در عام طور پر میں ایک کتاب پڑھتا جاتا تھا اور پیر صاحب لیٹے لیٹے سنتے جاتے۔نتیجہ یہ ہوا کہ براہین احمدیہ کے پہلے حصہ سے لیکر شاید تک کی تمام کتا ہیں ہم نے خوب مطالعہ کر لیں اور چونکہ یہی کتابیں ہمیں لاہور سے ملی تھیں۔علاوہ ازیں مولوی محمد علی صاحب کی اپنی لکھی ہوئی چند کتابیں مثلاً " النبوة في الاسلام" وغیرہ جن میں جماعت کے اختلافی مسائل پر بحث تھی۔ان کتابوں کے ذریعہ سے ہمیں علم ہوا کہ مرزا صاحب کی جماعت کے دو گروہ ہیں۔اور ان کے درمیان یہ اختلافی مسائل ہیں مسئلہ نبوت مسئلہ خلافت - پیشگوئی مصلح موعود وغیرہ۔لیکن اس زمانہ میں ہم مرزا صاحب کا ترجمان مولوی محمد علی صاحب کو سمجھتے تھے۔۔۔۔۔۔وہی عقائد ہمارے دلوں میں گڑ گئے کہ مرزا صاب ایک نیک آدمی ہیں نبی نہیں۔نہ ہی آپ کے بعد خلافت کی ضرورت ہے۔ہمارے ان عقاید کا علم جب ہمارے دوسرے علماء کو ہوا تو لاہور، گوجرانوالہ، راولپنڈی واں بھچراں سے کئی بزرگ علماء چک منگلا آنے شروع ہوئے۔مثلاً مولوی غلام اللہ خان صاحب - قاعنی شمس الدین صاحب قاضی نور محمد صاحب مولوی شہاب الدین صاحب اور بے شمار علماء حضرات۔ہمارے ساتھ ان کا یہ جھگڑا ہوتا کہ تم مرزا صاحب کو کا فرکیوں نہیں کہتے۔ہم کہتے ہم احمدی نہیں صرف مرزا صاحب کو کافر نہیں کہتے۔وہ کہتے جو مرزا صاحب کو کافر نہ کہے وہ خود کافر ہے۔ہم کہتے کہ ہمیں سمجھاؤ مرزا صاحب کیوں کافر ہیں۔وہ دلائل دیتے ہم ان کو جواب دیتے کہ